امریکہ میں عدالت کے فیصلے کے بعد کووڈ ویکسینز غیر یقینی صورتحال کا شکار
امریکہ میں کووڈ-19 ویکسینز اور نئی تیار کی جانے والی ویکسینز کے مستقبل پر سوالات اٹھ گئے ہیں، جب ایک وفاقی عدالت نے رابرٹ ایف کینیڈی جونیئر سے منسلک ایک اہم مشاورتی پینل کی سرگرمیاں معطل کر دیں۔ یہ پینل نئی ویکسینز اور اپڈیٹڈ کووڈ شاٹس کے بارے میں سفارشات دینے والا تھا، تاہم اس فیصلے کے بعد اہم پالیسی فیصلوں میں تاخیر ہو گئی ہے۔
ماہرین صحت کے مطابق اس عدالتی فیصلے سے نئی نسل کی ویکسینز کی تیاری اور فراہمی کا عمل سست پڑ سکتا ہے، خاص طور پر وہ ویکسینز جو وائرس کی نئی اقسام کے خلاف بنائی جا رہی ہیں۔ ادویہ ساز کمپنیاں اور طبی حکام اس پینل کی رہنمائی کے منتظر تھے تاکہ آئندہ موسم میں ویکسینز کے استعمال کے حوالے سے حکمت عملی طے کی جا سکے۔
حکام کا کہنا ہے کہ اس تاخیر سے مستقبل میں ممکنہ وبائی صورتحال سے نمٹنے کی تیاری متاثر ہو سکتی ہے۔ اگرچہ متعلقہ ادارے متبادل راستوں پر غور کر رہے ہیں، لیکن یہ ابھی واضح نہیں کہ مشاورتی عمل کب بحال ہوگا اور اس کے فیصلے آئندہ ویکسین پالیسی پر کیسے اثر انداز ہوں گے۔
