شام کے مشرقی صوبے دیر الزور میں ایک سرکاری بس پر دھماکے کے نتیجے میں کم از کم چار افراد ہلاک اور نو زخمی ہوگئے ہیں۔
سرکاری خبر رساں ادارے سانا کے مطابق یہ حملہ اُس وقت ہوا جب وزارتِ توانائی کی بس دیر الزور سے المیادین کے درمیان شاہراہ پر سفر کر رہی تھی۔
حکام کے مطابق ہلاک ہونے والے تمام افراد تیل کے ایک مرکز پر تعینات سکیورٹی اہلکار تھے۔ دھماکے سے متعدد عام شہری اور تیل کے محکمے کے ملازمین بھی زخمی ہوئے۔
عینی شاہدین کی ویڈیوز میں ایک تباہ شدہ بس کے ارد گرد سکیورٹی اہلکاروں کو جائے وقوعہ کا جائزہ لیتے دیکھا گیا۔
رائٹرز کے مطابق متاثرہ اہلکار تیم آئل فیلڈ پر ڈیوٹی دینے کے بعد واپس جا رہے تھے جب ان کی بس کو نشانہ بنایا گیا۔
تاحال کسی گروپ نے حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی، تاہم حکام کو شبہ ہے کہ یہ کارروائی داعش (ISIL) کے باقی ماندہ عناصر کی ہو سکتی ہے، جو اس سے قبل بھی شام میں اسی نوعیت کے حملے کر چکے ہیں۔
یہ واقعہ سابق صدر بشارالاسد کی حکومت کے خاتمے کے بعد دیر الزور میں ہونے والا سب سے بڑا حملہ ہے۔
حالیہ ہفتوں میں اس علاقے میں سرکاری فورسز اور کرد حمایت یافتہ ایس ڈی ایف کے درمیان کشیدگی میں بھی اضافہ ہوا ہے۔
شام کے موجودہ صدر احمد الشراع ملک میں استحکام اور بین الاقوامی تعلقات کی بحالی کے لیے کوششیں کر رہے ہیں۔ انہوں نے گزشتہ ماہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب میں شام پر عائد پابندیاں ختم کرنے اور معاشی تعاون بڑھانے کی اپیل کی تھی۔
ادھر اسرائیلی فورسز نے جنوبی شام کے علاقے قنیطرہ میں تازہ کارروائیاں کی ہیں، جسے دمشق نے اپنی خودمختاری کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔
