یوکرین اور اسرائیل کے درمیان اس وقت سفارتی کشیدگی بڑھ گئی ہے جب کیف نے اسرائیل پر الزام عائد کیا ہے کہ اس نے ایسا اناج اپنی بندرگاہ تک پہنچنے دیا جو یوکرین کے مطابق روس نے مقبوضہ یوکرینی علاقوں سے چرایا تھا۔ یوکرینی صدر وولودیمیر زیلنسکی نے کہا ہے کہ اس اناج کو لے جانے والا جہاز حیفہ پہنچا، اور اس معاملے میں ملوث افراد یا اداروں پر پابندیاں بھی لگائی جا سکتی ہیں۔
اس تنازعے کا بنیادی نکتہ یہ ہے کہ یوکرین اس اناج کو روس کی عام برآمد نہیں بلکہ مقبوضہ علاقوں سے نکالا گیا مال قرار دے رہا ہے۔ یوکرینی حکام کا کہنا ہے کہ یہ کوئی ایک الگ واقعہ نہیں، بلکہ 2023 سے اب تک کئی ایسی کھیپیں مختلف طریقوں سے اسرائیل پہنچی ہیں۔ ان کے مطابق اصل ماخذ چھپانے کے لیے بیچ کے راستے، دستاویزات میں تبدیلی اور دیگر حربے استعمال کیے گئے۔
دوسری جانب اسرائیل نے اس الزام کو موجودہ شکل میں مسترد کیا ہے۔ اسرائیلی حکام کا کہنا ہے کہ یوکرین کی جانب سے بروقت ایسی قانونی اور ثبوتی بنیاد فراہم نہیں کی گئی جس کی روشنی میں فوری کارروائی ممکن ہوتی۔ اسرائیلی مؤقف یہ بھی ہے کہ جس جہاز کا ذکر کیا جا رہا ہے، اس کے بارے میں مکمل کارروائی سے پہلے ہی معاملے کو عوامی سطح پر اچھال دیا گیا، جس سے سفارتی تناؤ مزید بڑھ گیا۔
یہ جواب کیف میں مزید ناراضی کا باعث بنا ہے۔ یوکرینی حکام کا کہنا ہے کہ انہوں نے اسرائیلی حکام کو پیشگی آگاہ کیا تھا اور مشتبہ کھیپ کو روکنے یا ضبط کرنے کی درخواست بھی دی تھی۔ اب یوکرین اس معاملے کو صرف جنگی حالات میں غیرقانونی تجارت کا مسئلہ نہیں بلکہ ایک بڑے امتحان کے طور پر پیش کر رہا ہے: آیا دوست ممالک مقبوضہ زمین سے حاصل شدہ وسائل کی تجارت کو روکنے کے لیے واقعی تیار ہیں یا نہیں۔
اس تنازعے کی اہمیت صرف اناج کی ایک کھیپ تک محدود نہیں۔ اس کے پیچھے جنگ، پابندیاں، بین الاقوامی قانون اور سفارتی توازن جیسے بڑے سوالات کھڑے ہیں۔ یوکرین کے لیے یہ معاملہ اس بات سے جڑا ہے کہ روس مقبوضہ علاقوں کے وسائل کو عالمی منڈی میں فروخت کر کے فائدہ نہ اٹھا سکے۔ اسرائیل کے لیے مسئلہ زیادہ پیچیدہ ہے، کیونکہ اسے قانونی تقاضوں، ثبوت کے معیار اور روس و یوکرین دونوں سے تعلقات کے نازک توازن کو بھی دیکھنا ہوتا ہے۔
ابھی سب سے بڑا غیر حل شدہ سوال ثبوت کا ہے۔ یوکرین پورے یقین سے کہہ رہا ہے کہ اناج چرایا گیا تھا، جبکہ اسرائیل کا کہنا ہے کہ اس دعوے کو اس معیار تک ثابت نہیں کیا گیا جس پر عملدرآمدی اقدام کیا جا سکے۔ جب تک یہ خلا برقرار رہتا ہے، یہ معاملہ محض تجارتی کاغذات یا بندرگاہی کارروائی تک محدود نہیں رہے گا بلکہ دونوں حکومتوں کے درمیان اعتماد کے بحران کی شکل اختیار کیے رہے گا۔
