علیمہ خان نے کہا ہے کہ سابق وزیرِ اعظم اور پی ٹی آئی کے بانی عمران خان کی صحت جیل میں مسلسل خراب ہو رہی ہے، جس کے بعد ایک بار پھر ان کے علاج، جیل میں سہولیات اور آزادانہ طبی معائنے کے معاملے پر سیاسی اور قانونی بحث تیز ہو گئی ہے۔ علیمہ خان کے حالیہ بیانات دراصل اُن خدشات کا تسلسل ہیں جو خاندان اور قانونی ٹیم پہلے بھی ظاہر کرتی رہی ہے، خاص طور پر عمران خان کی دائیں آنکھ کی بینائی کے بارے میں۔
یہ معاملہ صرف سیاسی بیان بازی تک محدود نہیں رہا۔ فروری 2026 میں پاکستان کی سپریم کورٹ نے ایک میڈیکل بورڈ سے عمران خان کا معائنہ کرانے کا حکم دیا تھا، جب عدالت میں جمع کرائی گئی ایک رپورٹ میں کہا گیا کہ اُن کی دائیں آنکھ کی تقریباً 85 فیصد بینائی متاثر ہو چکی ہے۔ عدالت نے ہدایت کی تھی کہ طبی معائنہ مقررہ مدت کے اندر مکمل کیا جائے۔ اس پیش رفت نے صحت کے اس معاملے کو باقاعدہ عدالتی نگرانی میں لا کھڑا کیا۔
علیمہ خان اور خاندان کے دیگر افراد مسلسل یہ مؤقف دہراتے رہے ہیں کہ عمران خان کو مناسب اور بروقت طبی سہولتیں نہیں دی جا رہیں۔ رواں برس مختلف میڈیا گفتگوؤں میں علیمہ خان نے کہا کہ اُن کی دائیں آنکھ بدستور شدید متاثر ہے اور خاندان حکومتی دعوؤں پر اعتماد نہیں کرتا۔ خاندان کا مؤقف سادہ مگر سخت ہے: عمران خان کو قابلِ اعتماد اور آزاد طبی رسائی دی جائے۔
دوسری جانب حکومت نے ان دعوؤں کو سختی سے رد کیا ہے۔ وفاقی وزیرِ داخلہ محسن نقوی نے علیمہ خان پر الزام لگایا کہ وہ اس معاملے کو سیاسی رنگ دے رہی ہیں، اور یہ بھی کہا کہ بعض مراحل پر انہی کے طرزِ عمل کے باعث طبی جانچ میں تاخیر ہوئی۔ حکومتی مؤقف یہ رہا ہے کہ عمران خان کا طبی معائنہ ہو چکا ہے اور صورتِ حال کو غیر ضروری طور پر بڑھا چڑھا کر پیش کیا جا رہا ہے۔
یوں اس وقت دو متضاد بیانیے آمنے سامنے ہیں۔ ایک طرف پی ٹی آئی، عمران خان کے اہلِ خانہ اور وکلا ہیں جو کہتے ہیں کہ اُن کی صحت بگڑ رہی ہے اور علاج میں تاخیر نے نقصان بڑھایا ہے۔ دوسری طرف حکومت ہے، جو کہتی ہے کہ علاج ہو رہا ہے اور اپوزیشن اس معاملے کو سیاسی ہتھیار کے طور پر استعمال کر رہی ہے۔ سپریم کورٹ کی مداخلت کے باوجود یہ اختلاف ختم نہیں ہوا۔
اس پوری کہانی کا سب سے اہم نکتہ شاید یہی ہے کہ عمران خان کی صحت، خاص طور پر بینائی، کے بارے میں خدشات اتنے سنجیدہ ہو گئے کہ معاملہ ملک کی اعلیٰ ترین عدالت تک پہنچا، اور اس کے باوجود خاندان اب بھی سرکاری مؤقف کو قبول کرنے کے لیے تیار نہیں۔ اسی وجہ سے یہ خبر محض ایک طبی اپ ڈیٹ نہیں رہی، بلکہ پی ٹی آئی اور ریاستی اداروں کے درمیان جاری بڑے سیاسی تنازعے کا ایک اور حساس باب بن چکی ہے۔
