برطانیہ کی ٹیکنالوجی سیکریٹری لِز کینڈل نے کہا ہے کہ برطانیہ مصنوعی ذہانت کے تحفظ اور خودمختار ٹیکنالوجی کے شعبے میں دیگر ’درمیانی طاقت رکھنے والے ممالک‘ کے ساتھ تعاون بڑھائے گا، تاکہ ایک ایسی ٹیکنالوجی کے مستقبل پر اثرانداز ہو سکے جس پر اس وقت زیادہ تر امریکہ اور چین کا غلبہ ہے۔ انہوں نے یہ بات 28 اپریل 2026 کو لندن میں رائل یونائیٹڈ سروسز انسٹی ٹیوٹ میں خطاب کرتے ہوئے کہی۔
کینڈل کے مطابق معاملہ صرف نئی ایجادات کا نہیں بلکہ قومی سلامتی، معاشی طاقت اور ریاستی خودمختاری کا بھی ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ جو ممالک اس دور کی فیصلہ کن ٹیکنالوجی پر مہارت حاصل نہیں کریں گے، وہ اپنی سلامتی اور معاشی مستقبل پر کنٹرول کھو سکتے ہیں۔
ان کے بیان میں ’درمیانی طاقتوں‘ کا تصور خاص اہمیت رکھتا ہے۔ ایک رپورٹ کے مطابق برطانیہ اس تعاون میں فرانس، جرمنی اور کینیڈا جیسے ممالک کو شامل دیکھ رہا ہے، تاکہ یہ ممالک مشترکہ طور پر مصنوعی ذہانت کے تحفظ، بنیادی ڈھانچے اور ٹیکنالوجی سے متعلق پالیسی پر زیادہ مؤثر کردار ادا کر سکیں۔
یہ مؤقف برطانیہ کی وسیع تر پالیسی سے بھی جڑا ہوا ہے۔ حکومت پہلے ہی اس بات پر زور دے چکی ہے کہ ملک کو مصنوعی ذہانت کے شعبے میں زیادہ خود اختیار بننا ہوگا، اور اسی مقصد کے لیے ایک 500 ملین پاؤنڈ کے سوورین اے آئی فنڈ کا اعلان کیا گیا ہے تاکہ مقامی کمپنیوں اور قومی صلاحیت کو مضبوط بنایا جا سکے۔
اس پالیسی کے پیچھے سلامتی کا پہلو بھی نمایاں ہے۔ حالیہ سرکاری اور متعلقہ رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ برطانیہ کو درپیش سنگین ترین سائبر خطرات اب روس، ایران اور چین جیسے ریاستی عناصر سے آ رہے ہیں، جبکہ حکومت مصنوعی ذہانت کی مدد سے قومی سائبر دفاع مضبوط بنانے کے لیے نجی شعبے اور اے آئی کمپنیوں کے ساتھ اشتراک چاہتی ہے۔
اگرچہ ابھی یہ واضح نہیں کہ یہ بین الاقوامی تعاون عملی طور پر کس شکل میں سامنے آئے گا، لیکن حکومت کا رخ کافی واضح ہے: برطانیہ نہ تو مصنوعی ذہانت میں مکمل انحصار کی پوزیشن میں رہنا چاہتا ہے اور نہ ہی بڑی طاقتوں کی محض پیروی کرنا چاہتا ہے۔ اس کے بجائے وہ ہم خیال ممالک کے ساتھ مل کر ایک ایسا راستہ بنانا چاہتا ہے جو سلامتی، معیشت اور تکنیکی اختیار تینوں کو ساتھ لے کر چلے۔
