اسپیس ایکس نے اپنے چیف ایگزیکٹو ایلون مسک کے معاوضے کے ڈھانچے میں بڑی تبدیلی کر دی ہے۔ اب مسک کی آمدنی کا انحصار روایتی مالی اہداف جیسے کہ منافع یا ریونیو پر نہیں، بلکہ مریخ پر انسانوں کو اتارنے اور وہاں مستقل رہائشی بستی قائم کرنے کے سنگ میل سے مشروط کر دیا گیا ہے۔
کارپوریٹ دنیا میں یہ ایک غیر معمولی فیصلہ ہے۔ عام طور پر سی ای اوز کو سہ ماہی رپورٹس اور اسٹاک مارکیٹ میں کارکردگی کے ذریعے مراعات دی جاتی ہیں، لیکن اسپیس ایکس نے اپنی پوری توجہ ‘اسٹار شپ’ (Starship) پروگرام کی کامیابی پر مرکوز کر دی ہے۔ اگر اسٹار شپ مریخ کی سطح پر اترنے میں ناکام رہتی ہے تو مسک کا یہ نیا مالی پیکیج غیر فعال رہے گا۔
یہ فیصلہ اسپیس ایکس کو ایک ایسی کمپنی کے طور پر پیش کرتا ہے جس کا واحد اور حتمی مقصد زمین سے باہر انسانی زندگی کا تسلسل ہے۔ کمپنی کے بورڈ نے مسک کے ذاتی اثاثوں کو ان کے سب سے بڑے انجینئرنگ چیلنج کے ساتھ جوڑ دیا ہے، جس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ کمپنی اب صرف لانچ سروسز یا سیٹلائٹ انٹرنیٹ فراہم کرنے والی کمپنی نہیں رہی، بلکہ یہ اب بین السیارہ (interplanetary) بنیادی ڈھانچہ بنانے پر کام کر رہی ہے۔
جنوبی ٹیکساس میں اسپیس ایکس کے حالیہ تجربات اس سفر کی سمت واضح کرتے ہیں۔ حال ہی میں سپر ہیوی بوسٹر کو لانچ ٹاور پر کامیابی سے واپس پکڑنا اس بات کا ثبوت ہے کہ ‘ری یوز ایبل’ ٹیکنالوجی اب حقیقت کا روپ دھار چکی ہے۔ مریخ پر پہنچنے اور وہاں زندگی کو برقرار رکھنے کے لیے یہ ٹیکنالوجی کلیدی حیثیت رکھتی ہے، اگرچہ ایک منجمد اور تابکاری سے بھرپور سیارے پر انسان کو زندہ رکھنا اب بھی ایک بہت بڑا تکنیکی چیلنج ہے۔
ایلون مسک کو طویل عرصے سے ٹیسلا اور اسپیس ایکس کے درمیان اپنی توجہ تقسیم کرنے پر تنقید کا سامنا رہا ہے۔ اس نئے معاہدے کے ذریعے بورڈ نے سرمایہ کاروں کو پیغام دیا ہے کہ مسک کی توجہ اب مکمل طور پر خلائی مشن پر مرکوز رہے گی۔
مریخ پر پہلے غیر انسانی مشن کی ٹائم لائن کو کئی بار تبدیل کیا جا چکا ہے، اور اب یہ اہداف 2020 کی دہائی کے آخر تک کے لیے مقرر ہیں۔ اسپیس ایکس کے بورڈ کا یہ اقدام اس بات کی تصدیق کرتا ہے کہ ایلون مسک کا اگلا مالی فائدہ زمین کے اعداد و شمار سے نہیں، بلکہ مریخ کی سرخ مٹی پر انسانی قدم رکھنے سے جڑا ہوا ہے۔
