واٹس ایپ ایک ایسے نئے بیک اپ سسٹم کی آزمائش کرتا دکھائی دے رہا ہے جس کے تحت چیٹ ہسٹری کو براہِ راست واٹس ایپ کے اپنے کلاؤڈ انفراسٹرکچر میں محفوظ کیا جا سکے گا، یعنی وہ ماڈل جس میں اب تک بیک اپ زیادہ تر گوگل ڈرائیو یا آئی کلاؤڈ پر منحصر تھے، بدل سکتا ہے۔ اس پیش رفت کی بنیادی رپورٹ WABetaInfo سے منسلک کوریج میں سامنے آئی ہے، جبکہ دوسری ٹیک رپورٹس بھی یہی کہہ رہی ہیں کہ واٹس ایپ اپنے لیے first-party cloud backup provider تیار کر رہا ہے۔
اگر یہ فیچر عام صارفین تک پہنچتا ہے تو یہ صرف ایک معمولی اپ ڈیٹ نہیں ہوگی۔ اس کا مطلب یہ ہو سکتا ہے کہ واٹس ایپ بیک اپ، ریسٹور اور اسٹوریج کے پورے تجربے پر پہلے سے کہیں زیادہ براہِ راست کنٹرول حاصل کرنا چاہتا ہے۔ موجودہ نظام میں، خاص طور پر اینڈرائیڈ پر، واٹس ایپ بیک اپس گوگل اکاؤنٹ کی اسٹوریج حد میں شمار ہوتے ہیں، اور گوگل خود کہتا ہے کہ یہ بیک اپ بعض اوقات اکاؤنٹ میں جگہ لینے والی بڑی ترین آئٹمز میں شامل ہو سکتے ہیں۔
اسی لیے اس خبر کی اصل اہمیت صرف “نیا فیچر” نہیں بلکہ اسٹوریج پر بوجھ، کنٹرول اور پرائیویسی ہے۔ اگر واٹس ایپ اپنی مقامی کلاؤڈ بیک اپ سروس لاتا ہے تو صارفین کو ممکنہ طور پر ایک ایسا راستہ مل سکتا ہے جو گوگل ڈرائیو یا آئی کلاؤڈ سے ہٹ کر ہو، خاص طور پر ان لوگوں کے لیے جن کے بیک اپس بڑی مقدار میں تصاویر، ویڈیوز اور میڈیا پر مشتمل ہوتے ہیں۔ یہ بھی ممکن ہے کہ میٹا بیک اپ ریسٹور کو زیادہ یکساں، تیز اور اپنے ماحولیے کے مطابق بنانا چاہتا ہو۔ یہ نکتہ موجودہ رپورٹنگ سے اخذ کیا گیا تجزیہ ہے، واٹس ایپ کی باقاعدہ اعلان کردہ پالیسی نہیں۔
سکیورٹی کے پہلو سے بھی یہ پیش رفت اہم ہے۔ واٹس ایپ پہلے ہی چیٹ بیک اپس کے لیے end-to-end encrypted backups فراہم کرتا ہے، اور میٹا نے 2025 میں یہ بھی اعلان کیا تھا کہ بیک اپس کو passkey-encrypted بنانا آسان کیا جا رہا ہے۔ اس سے واضح ہے کہ کمپنی بیک اپس کو اپنی پرائیویسی حکمتِ عملی کا اہم حصہ سمجھتی ہے۔ نئی رپورٹنگ کا دعویٰ ہے کہ مقامی کلاؤڈ بیک اپ سسٹم میں اینڈ ٹو اینڈ انکرپشن بطور ڈیفالٹ شامل ہو سکتی ہے، لیکن اس حصے کی ابھی تک واٹس ایپ کی جانب سے باقاعدہ عوامی تصدیق سامنے نہیں آئی۔
ایک اور دلچسپ بات یہ ہے کہ بعض ثانوی رپورٹس میں یہ اشارہ بھی دیا گیا ہے کہ صارفین کو شاید 2GB مفت کلاؤڈ اسٹوریج دی جا سکتی ہے۔ تاہم یہ تفصیل فی الحال لیک یا غیر رسمی رپورٹنگ پر مبنی ہے، اس لیے اسے حتمی فیچر کے طور پر پیش کرنا درست نہیں ہوگا۔ ابھی یہ کہنا زیادہ محتاط ہوگا کہ واٹس ایپ کم از کم ایک ایسے بیک اپ ماڈل پر کام کرتا دکھائی دے رہا ہے جو مستقبل میں براہِ راست، زیادہ محفوظ، اور ممکنہ طور پر زیادہ خودمختار ہوسکتا ہے۔
فی الحال خبر کا خلاصہ سادہ ہے: واٹس ایپ غالباً ایک نئی مقامی کلاؤڈ بیک اپ سروس آزما رہا ہے تاکہ چیٹ بیک اپس کے لیے گوگل اور ایپل پر انحصار کم کیا جا سکے۔ مگر جب تک واٹس ایپ یا میٹا خود اس فیچر کا باقاعدہ اعلان نہیں کرتے، اسے بیٹا مرحلے کی پیش رفت ہی سمجھا جانا چاہیے، لانچ شدہ پراڈکٹ نہیں۔
