بھارتی حکومت نے ٹیلیگرام کو سخت انتباہ جاری کرتے ہوئے حکم دیا ہے کہ وہ 15 دن کے اندر اپنے پلیٹ فارم پر کاپی رائٹ قوانین کی خلاف ورزی اور فلموں کی غیر قانونی ترسیل کو روکے، بصورتِ دیگر کمپنی کو قانونی کارروائی کا سامنا کرنا پڑے گا۔
وزارتِ اطلاعات و نشریات کی جانب سے یہ ہدایت خاص طور پر ٹیلیگرام کے ‘پبلک چینلز’ کو ہدف بناتی ہے، جو اب فلمی قزاقی کا سب سے بڑا گڑھ بن چکے ہیں۔ ٹیلیگرام اگرچہ اپنی نجی چیٹس میں انکرپشن اور پرائیویسی کا دعویٰ کرتا ہے، لیکن اس کے بڑے عوامی گروپس نے اسے ایک ڈیجیٹل بلیک مارکیٹ میں تبدیل کر دیا ہے۔ فلم سازوں اور او ٹی ٹی پلیٹ فارمز کا دیرینہ مطالبہ ہے کہ ٹیلیگرام کا موجودہ نظام مواد کی نگرانی میں ناکام ہے، جس کی وجہ سے کاپی رائٹ شدہ مواد کی کھلے عام تشہیر کی جاتی ہے۔
بھارتی آئی ٹی قوانین کے تحت، سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کو صارفین کے مواد کے قانونی تحفظات حاصل ہوتے ہیں، بشرطیکہ وہ شکایت ملنے پر فوری کارروائی کریں۔ تاہم، حکومت کا موقف ہے کہ یہ تحفظ غیر مشروط نہیں ہے۔ اگر کوئی پلیٹ فارم مسلسل غیر قانونی سرگرمیوں کا مرکز بنا رہے، تو وہ اس قانونی استثنیٰ کا حقدار نہیں رہتا۔
فلم انڈسٹری کے لیے یہ حکومتی قدم ایک اہم پیش رفت ہے۔ اس وقت صورتحال یہ ہے کہ نئی فلمیں ریلیز ہوتے ہی چند منٹوں کے اندر ٹیلیگرام چینلز پر دستیاب ہو جاتی ہیں۔ پروڈکشن ہاؤسز کا کہنا ہے کہ موجودہ رپورٹنگ کا طریقہ کار ناکافی ہے؛ ایک چینل بند ہوتا ہے تو اسی نام یا کسی اور عنوان سے مواد دوبارہ اپ لوڈ کر دیا جاتا ہے۔
ٹیلیگرام کا اب تک یہی موقف رہا ہے کہ وہ قانون نافذ کرنے والے اداروں سے تعاون کرتا ہے، لیکن ساتھ ہی اپنی انکرپشن پالیسی پر بھی قائم ہے۔ اب کمپنی کے سامنے مشکل یہ ہے کہ وہ اپنی بنیادی پرائیویسی پالیسی کو متاثر کیے بغیر پبلک مواد کی نگرانی کا ایسا نظام کیسے وضع کرے جو حکومت کو مطمئن کر سکے۔
اگر ٹیلیگرام 15 دن کی ڈیڈ لائن کے اندر کوئی ٹھوس لائحہ عمل پیش کرنے میں ناکام رہتا ہے، تو نتائج سنگین ہو سکتے ہیں۔ بھارتی حکام کے پاس اختیار ہے کہ وہ پلیٹ فارم کے پبلک فیچرز کو محدود کر دیں یا انتہائی صورت میں پوری سروس پر پابندی عائد کر دیں۔ اب ٹیلیگرام کی انتظامیہ کو فیصلہ کرنا ہے کہ کیا وہ اپنی ماڈریٹ پالیسی میں بڑی تبدیلی لانے کے لیے تیار ہے، یا پھر وہ بھارت جیسی بڑی مارکیٹ میں اپنے وجود کو خطرے میں ڈالنے کا رسک لے گی۔
