مشہور انگریزی اخبار ‘ڈان’ کی ویب سائٹ کی ہو بہو نقل کر کے ایک جعلی ویب سائٹ بنائی گئی ہے، جس پر ایک فرضی آرٹیکل کے ذریعے دعویٰ کیا گیا کہ اخبار نے اپنا مصنوعی ذہانت کا پلیٹ فارم متعارف کروا دیا ہے۔ یہ ویب سائٹ، جو کہ اصل ڈومین سے ملتی جلتی یو آر ایل استعمال کر رہی ہے، دراصل ایک پیچیدہ فشنگ کوشش ہے۔
اس جعلی ویب سائٹ پر شائع ہونے والے مضمون میں دعویٰ کیا گیا کہ ‘ڈان’ نے ایک ایسا "اے آئی انویسٹمنٹ ٹول” لانچ کیا ہے جو سرمایہ کاری پر یقینی منافع دیتا ہے۔ اس دھوکہ دہی کو قابلِ اعتبار بنانے کے لیے اخبار کے ایڈیٹوریل اسٹاف کے جعلی اقتباسات اور ایڈیٹ شدہ تصاویر کا سہارا لیا گیا ہے۔
سائبر سیکیورٹی کے ماہرین کے مطابق یہ ایک منظم "اسپوفنگ” آپریشن ہے۔ کسی معتبر خبر رساں ادارے کی بصری شناخت کا غلط استعمال کر کے مجرم عوام کے نجی کوائف اور بینکنگ معلومات چرانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ جعلی ویب سائٹ پر موجود ‘رجسٹریشن’ کا بٹن دراصل صارفین کا ڈیٹا چوری کرنے کا ایک ہتھکنڈہ ہے۔
‘ڈان’ انتظامیہ نے اس خبر کی سختی سے تردید کی ہے۔ اخبار کے ترجمان نے واضح کیا کہ ادارے کا کسی بھی اے آئی پلیٹ فارم یا سرمایہ کاری اسکیم سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ انتظامیہ نے قارئین کو تنبیہ کی ہے کہ وہ ویب سائٹ کے یو آر ایل کو بغور دیکھیں اور سوشل میڈیا یا پیغام رسانی کی ایپس پر آنے والے مشکوک لنکس پر کلک کرنے سے گریز کریں۔
مصنوعی ذہانت کے دور میں، غلط معلومات پھیلانے والے عناصر اب مستند خبر رساں اداروں کی ہو بہو نقل تیار کرنے میں زیادہ مہارت حاصل کر چکے ہیں۔ ایسے گروہ اکثر زیادہ ٹریفک والی ویب سائٹس کو نشانہ بناتے ہیں تاکہ لوگوں کے اعتماد کا فائدہ اٹھا سکیں۔
ڈیجیٹل فارنزک کے ماہرین کا کہنا ہے کہ اس جعلی ویب سائٹ کی ڈومین رجسٹریشن چھپی ہوئی ہے، جو کہ مجرمانہ عناصر کا ایک عام طریقہ کار ہے۔ اگرچہ اس ڈومین کو بند کروانے کے لیے ہوسٹنگ پرووائیڈرز سے رابطہ کیا جا رہا ہے، لیکن یہ واقعہ اس بات کی یاد دہانی ہے کہ ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر پھیلائی جانے والی غلط معلومات کس قدر خطرناک ہو سکتی ہیں۔
سیکیورٹی ماہرین نے مشورہ دیا ہے کہ کسی بھی ویب سائٹ پر حساس معلومات درج کرنے سے پہلے براؤزر کے ایڈریس بار میں یو آر ایل کو ضرور چیک کریں۔ اگر ویب ایڈریس ‘ڈان’ کے آفیشل یو آر ایل سے مختلف ہے، تو یہ یقینی طور پر ایک فراڈ ہے۔
