کراچی — مقامی تاجر ذیشان ناز، جنہیں ان کے اہل خانہ اور کاروباری حلقے مردہ تصور کر رہے تھے، پولیس کی حراست میں ہیں۔ تفتیش کاروں نے ان کے اس منصوبے کو بے نقاب کر دیا ہے جس کے تحت انہوں نے بھاری قرضوں سے جان چھڑانے کے لیے اپنی موت کا ڈرامہ رچایا تھا۔
شہر کے تجارتی مرکز میں کاروبار کرنے والے ذیشان ناز گزشتہ ماہ اچانک لاپتہ ہو گئے۔ اہل خانہ نے ان کی گمشدگی کی رپورٹ درج کرائی، اور جب ان کی گاڑی ایک نہر کے قریب لاوارث حالت میں ملی، تو سب کو یقین ہو گیا کہ وہ اغوا یا قتل کا شکار ہو چکے ہیں۔ تاہم، منگل کے روز پولیس نے انہیں پنجاب کے ایک دور دراز علاقے سے گرفتار کر لیا، جہاں وہ اپنی شناخت بدل کر روپوش تھے۔
اس "موت” کی تحقیقات اس وقت شروع ہوئیں جب تفتیش کاروں کو اغوا کی ابتدائی رپورٹ میں تضادات نظر آئے۔ اگرچہ خاندان کا اصرار تھا کہ یہ کسی دشمنی کا نتیجہ ہے، لیکن تاوان کے لیے کوئی مطالبہ نہ ہونے پر پولیس کو شک ہوا۔ ڈیجیٹل فرانزک ٹیموں نے جب ان کی آخری نقل و حرکت کا جائزہ لیا، تو انکشاف ہوا کہ واقعے سے چند گھنٹے قبل انہوں نے اپنے ذاتی اکاؤنٹس سے بڑی رقم نکلوائی تھی۔
کیس سے واقف ایک اعلیٰ پولیس افسر نے بتایا، "اس نے صرف گھر نہیں چھوڑا، بلکہ پورے واقعے کی منصوبہ بندی کی، بشمول اپنی اشیاء کو جائے وقوعہ پر چھوڑنا تاکہ تفتیش کو گمراہ کیا جا سکے۔”
تفتیش کاروں کے مطابق، ذیشان ناز کے اس اقدام کے پیچھے قرضوں کا بوجھ تھا۔ اطلاعات کے مطابق، انہوں نے کاروباری شراکت داروں اور مقامی قرض دہندگان سے لاکھوں روپے ادھار لے رکھے تھے، اور واپسی کا کوئی راستہ نہ ہونے پر انہوں نے اپنی ہستی کو ہی مٹا دینے کا فیصلہ کیا۔
اس گرفتاری نے مقامی کاروباری برادری کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ جن لوگوں نے ان کی وفات پر سوگ منایا تھا، اب وہ غم اور غصے کی ملی جلی کیفیت میں ہیں۔ ان کے کئی ساتھی اب قانونی کارروائی کی تیاری کر رہے ہیں تاکہ وہ رقوم واپس حاصل کی جا سکیں جنہیں وہ ڈوب چکا سمجھ رہے تھے۔
ذیشان ناز کو تفتیش کے لیے کراچی منتقل کیا جا رہا ہے۔ پولیس اس بات کا تعین کر رہی ہے کہ کیا اس ڈرامائی منصوبے میں کوئی اور بھی ان کا مددگار تھا یا انہوں نے یہ سارا کام تنہا کیا۔
فی الحال، وہ شخص جس نے ایک ڈرامائی المیے کے ذریعے اپنی مالی حقیقت سے فرار کی کوشش کی، اب ایک سخت تر حقیقت کا سامنا کر رہا ہے: ایک مجرمانہ ریکارڈ اور ایسی عدالت جو ان کی مجبوریوں کے دعووں سے آسانی سے متاثر نہیں ہوگی۔
