جمہوریہ کانگو کے صوبہ ایکواٹور میں ایبولا وائرس کے نئے کیسز کی تصدیق نے خطے میں ایک بار پھر طبی خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے۔ یہ وائرس، جو شدید بخار اور اندرونی خون بہنے کا باعث بنتا ہے، ایک بار پھر ان دور دراز جنگلی علاقوں میں سر اٹھا رہا ہے جہاں بنیادی طبی سہولیات کا فقدان اور نقل و حمل کی مشکلات سب سے بڑی رکاوٹ ہیں۔
صورتحال کی سنگینی کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ متاثرہ علاقے گھنے جنگلات پر مشتمل ہیں۔ یہاں وائرس کا پھیلاؤ اکثر جنگلی حیات سے انسانوں میں منتقلی کے ذریعے ہوتا ہے، اور پھر یہ انسانی رابطوں کے ذریعے دیہاتوں تک پہنچ جاتا ہے۔
ایک بین الاقوامی طبی امدادی ادارے کے فیلڈ کوآرڈینیٹر نے صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا، "ہم ایک ایسی آبادی کے ساتھ کام کر رہے ہیں جو پہلے ہی تھک چکی ہے۔ جب آپ ویکسین کے لیے کولڈ چین کی کمی اور دریاؤں کے راستے دور دراز گاؤں تک پہنچنے کی دشواری کو ملا کر دیکھتے ہیں، تو آپ کو اندازہ ہوتا ہے کہ ہم صرف ایک وائرس سے نہیں، بلکہ جغرافیے سے بھی لڑ رہے ہیں۔”
خطرات فوری نوعیت کے ہیں۔ اگرچہ ایبولا کے سدباب کے لیے جدید پروٹوکول موجود ہیں، لیکن زمینی حقائق انتہائی پیچیدہ ہیں۔ طبی ٹیمیں ان علاقوں میں کانٹیکٹ ٹریسنگ یعنی مریضوں کے رابطے میں آنے والے افراد کی تلاش میں مصروف ہیں جہاں سڑکیں سرے سے موجود ہی نہیں اور مواصلات کا انحصار ریڈیو پر ہے۔ اگر بروقت مداخلت نہ ہوئی تو یہ مقامی وبا بڑے تجارتی مراکز تک پھیل سکتی ہے، جو اسے ایک قومی بحران میں بدل دے گی۔
وزارت صحت کے اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ تصدیق شدہ کیسز کی تعداد ابھی دو ہندسوں میں ہے، لیکن وائرس کی منتقلی کے ذرائع کا تعین کرنا مشکل ہو رہا ہے۔ ایبولا کا انکیوبیشن پیریڈ 21 دن تک محیط ہوتا ہے، جس کا مطلب ہے کہ متاثرہ شخص علامات ظاہر ہونے سے پہلے طویل سفر کر سکتا ہے، اور اس طرح طبی ٹیموں کی پہنچ سے باہر ہو جاتا ہے۔
حکومت نے عالمی ادارہ صحت کے ساتھ مل کر ‘رنگ ویکسینیشن’ کا عمل شروع کیا ہے۔ اس حکمت عملی کے تحت متاثرہ فرد کے قریبی رابطوں کو ویکسین دی جاتی ہے تاکہ وائرس کے پھیلاؤ کو روکا جا سکے۔ تاہم، اس کامیابی کا انحصار مکمل طور پر عوامی اعتماد پر ہے، جو گزشتہ برسوں کی سیاسی اتھل پتھل کے بعد کافی کمزور ہو چکا ہے۔
متاثرہ اضلاع کے رہائشی طبی ٹیموں کے حوالے سے تذبذب اور خوف کا شکار ہیں۔ ماضی کے تجربات نے مقامی لوگوں میں ایک ایسا عدم اعتماد پیدا کیا ہے جو مریضوں کو الگ تھلگ کرنے یا محفوظ تدفین کے عمل میں بڑی رکاوٹ بن رہا ہے، حالانکہ یہ دونوں اقدامات وائرس کو روکنے کے لیے ناگزیر ہیں۔
جیسے جیسے طبی ٹیمیں جنگل کی گہرائیوں میں جا رہی ہیں، توجہ صرف کنٹینمنٹ پر مرکوز ہے۔ اگر اگلے چند ہفتوں میں وائرس کی ان زنجیروں کو نہ توڑا گیا، تو یہ دریا کے اہم بندرگاہوں تک پہنچ سکتا ہے، جہاں آبادی کا تناسب بہت زیادہ ہے اور طبی وسائل کی دستیابی محدود ہے۔
