سائنسدانوں کی ایک نئی فوسل تحقیق نے ٹرائیسیراٹوپس کے بارے میں اہم نئی معلومات فراہم کی ہیں۔ یہ ڈائنوسار کریٹیشیئس دور کے آخری زمانے کے سب سے مشہور سبزی خور ڈائنوسارز میں شمار ہوتا ہے۔ تازہ تحقیق سے اس کی جسمانی ساخت، نشوونما، طرزِ زندگی اور قدیم ماحولیاتی نظام میں اس کے کردار کو بہتر انداز میں سمجھنے میں مدد ملی ہے۔
ماہرینِ قدیم حیاتیات نے نئے تجزیہ کیے گئے فوسلز، کھوپڑی، سینگوں اور ہڈیوں کا تھری ڈی امیجنگ، سی ٹی اسکین اور ڈیجیٹل ری کنسٹرکشن کی مدد سے تفصیلی مطالعہ کیا۔ نتائج سے معلوم ہوا کہ ٹرائیسیراٹوپس کی عمر بڑھنے کے ساتھ اس کے سینگ اور گردن کے پیچھے موجود بڑا ہڈی نما فرِل مزید مضبوط اور نمایاں ہوتے جاتے تھے۔
ٹرائیسیراٹوپس کا مطلب "تین سینگوں والا چہرہ” ہے۔ یہ ایک بڑا سبزی خور ڈائنوسار تھا، جس کی لمبائی تقریباً 9 میٹر (30 فٹ) اور وزن 6 سے 12 ٹن تک ہو سکتا تھا۔ اس کی سب سے نمایاں خصوصیات دو لمبے ماتھے کے سینگ، ناک پر ایک چھوٹا سینگ اور گردن کے پیچھے موجود چوڑا ہڈی نما فرِل تھے۔
سائنسدانوں کا خیال ہے کہ اس کے سینگ اور فرِل صرف شکاریوں سے دفاع کے لیے استعمال نہیں ہوتے تھے بلکہ یہ طاقت کے اظہار، اپنی ہی نسل کی شناخت، ملاپ کے دوران مقابلے اور ممکنہ طور پر جسمانی درجۂ حرارت کو منظم رکھنے میں بھی کردار ادا کرتے تھے۔
تحقیق سے یہ بھی معلوم ہوا کہ ٹرائیسیراٹوپس کے پاس ایک مضبوط چونچ اور سیکڑوں قریب قریب جڑے ہوئے دانت تھے، جن کی مدد سے وہ سخت پودوں کو آسانی سے چبا سکتا تھا۔ ماہرین کے مطابق اس کی خوراک میں فرن، سائیکاڈز، پام کے پودے اور زمین کے قریب اگنے والی دوسری نباتات شامل تھیں۔
فوسلز سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ ٹرائیسیراٹوپس اسی دور میں رہتا تھا جب ٹی ریکس زمین پر موجود تھا، اس لیے اسے اس عظیم شکاری کے ممکنہ شکاروں میں شمار کیا جاتا ہے۔ تاہم سائنسدان اب بھی تحقیق کر رہے ہیں کہ آیا یہ اپنے سینگ بنیادی طور پر دفاع کے لیے استعمال کرتا تھا یا اپنی ہی نسل کے دوسرے ٹرائیسیراٹوپس کے ساتھ مقابلوں میں بھی۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ہر نئی فوسل دریافت ڈائنوسارز کی حیاتیات، ارتقا اور طرزِ زندگی کے بارے میں ہماری معلومات میں اضافہ کرتی ہے۔ انہیں امید ہے کہ مستقبل میں مزید دریافتیں ٹرائیسیراٹوپس کے رہن سہن، سماجی رویّوں اور ماحول سے مطابقت کے بارے میں مزید اہم حقائق سامنے لائیں گی۔
