اسلام آباد — نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) کے مطابق 26 جون سے اب تک پاکستان بھر میں مون سون بارشوں اور سیلاب کے باعث ہونے والی ہلاکتوں کی مجموعی تعداد 100 سے تجاوز کر کے 107 تک پہنچ گئی ہے۔ گزشتہ 24 گھنٹوں کی رپورٹ کے مطابق، پنجاب میں 7 اور خیبر پختونخوا میں مزید 3 افراد جاں بحق ہوئے، جن کی بنیادی وجوہات مکانات کی چھتیں گرنا، کرنٹ لگنا اور ڈوبنا شامل ہیں۔ اب تک سب سے زیادہ 55 اموات خیبر پختونخوا میں ریکارڈ کی گئی ہیں، جبکہ پنجاب میں 36، آزاد کشمیر میں 7، بلوچستان میں 6، سندھ میں 2 اور گلگت بلتستان میں ایک شخص جان کی بازی ہار چکا ہے۔ اس کے علاوہ گزشتہ روز مختلف اضلاع میں 50 افراد زخمی بھی ہوئے۔ مسلسل بارشوں سے کچے مکانات اور انفراسٹرکچر کو شدید نقصان پہنچا ہے اور پی ڈی ایم اے نے ندی نالوں اور نشیبی علاقوں کے رہائشیوں سے فوری طور پر محفوظ مقامات پر منتقل ہونے کی اپیل کی ہے۔
دوسری جانب، محکمہ موسمیات (پی ایم ڈی) نے 29 جولائی سے بڑے دریاؤں کے بالائی علاقوں، اسلام آباد، بالائی پنجاب، خیبرپختونخوا، گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر میں بارشوں کے ایک نئے سلسلے کی پیشگوئی کی ہے۔ اگرچہ سندھ، جہلم اور ستلج سمیت بیشتر بڑے دریا اس وقت معمول یا نچلے درجے کے سیلاب میں بہہ رہے ہیں، لیکن دریائے راوی میں سدھنائی ہیڈ ورکس کے مقام پر درمیانے درجے کا سیلاب ریکارڈ کیا گیا ہے۔ محکمہ موسمیات نے دریائے چناب اور راوی کو سیلاب کے ہائی رسک لیول پر رکھا ہے۔ اس کے علاوہ مقامی سطح پر سیلابی صورتحال برقرار ہے، خاص طور پر وزیر آباد کے پلکھو نالے میں 5,000 کیوسک کے ساتھ اونچے درجے کا سیلاب جبکہ نارووال کے بسنتر نالے میں درمیانے درجے کا سیلاب ہے، جس کے باعث متعلقہ محکمے کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے الرٹ پر ہیں۔
