اسلام آباد — پاکستان کا عدالتی نظام ایک بڑی تکنیکی تبدیلی کے دہانے پر ہے۔ وزارت قانون و انصاف نے عدالتوں میں مصنوعی ذہانت (AI) کے استعمال کے لیے ایک فریم ورک کو حتمی شکل دے دی ہے، جس کا مقصد ملک بھر کی عدالتوں میں زیر التواء 20 لاکھ سے زائد مقدمات کے بوجھ کو کم کرنا ہے۔
اس اقدام کا بنیادی مقصد عدالتی کارروائیوں کو خودکار بنانا ہے۔ اس میں عدالتی کارروائی کی فوری ٹرانسکرپشن، کیس فائلز کی منظم ترتیب، اور قانونی نظیروں (Precedents) کی فوری تلاش شامل ہے۔ حکام کا ماننا ہے کہ دستی فائلنگ اور تحقیق کا فرسودہ نظام نچلی عدالتوں کی کارکردگی کو دہائیوں سے مفلوج کیے ہوئے ہے۔ ڈیجیٹل نظام کے نفاذ سے معمولی نوعیت کی سماعتوں کے دورانیے میں 40 فیصد تک کمی متوقع ہے۔
تاہم، قانونی ماہرین نے اس پیش رفت پر تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ بنیادی خدشہ تکنیکی نہیں، بلکہ ‘الگورتھمک تعصب’ (Algorithmic Bias) کا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر AI ماڈلز کی تربیت پرانے عدالتی ڈیٹا پر کی گئی، تو یہ ماضی کے نظامی تعصبات کو خودکار بنا سکتے ہیں، جس سے انصاف کی فراہمی کے بجائے امتیازی سلوک کے خدشات بڑھ سکتے ہیں۔
وزارت قانون کے ایک اعلیٰ عہدیدار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ "ہم ججوں کی جگہ نہیں لے رہے، بلکہ صرف ان دفتری بوجھ کو ختم کر رہے ہیں جو ججوں کو چیمبرز میں الجھائے رکھتا ہے، جبکہ انہیں عدالتی کمرے میں موجود ہونا چاہیے۔”
ابتدائی طور پر یہ پروگرام اسلام آباد ہائی کورٹ میں بطور پائلٹ پروجیکٹ شروع کیا جائے گا۔ اگر تجربہ کامیاب رہا تو اگلے سال کے اوائل تک اسے لاہور اور کراچی کی عدالتوں تک پھیلایا جائے گا۔ مقامی ٹیک کمپنیوں کے اشتراک سے تیار کردہ یہ سافٹ ویئر اردو زبان کی پروسیسنگ کو ترجیح دے گا، جو بین الاقوامی AI ٹولز کے لیے اب تک ایک بڑی رکاوٹ رہا ہے۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب سپریم کورٹ پر نظام کو جدید بنانے کے لیے دباؤ بڑھ رہا ہے۔ موجودہ کاغذی نظام اکثر فائلیں گم ہونے اور انصاف میں تاخیر کا باعث بنتا ہے۔
وکلاء تنظیموں میں اس حوالے سے تقسیم پائی جاتی ہے۔ کچھ بار ایسوسی ایشنز شفافیت کے فقدان پر تشویش کا شکار ہیں اور خدشہ ظاہر کر رہی ہیں کہ سافٹ ویئر میں ردوبدل کر کے مخصوص نتائج حاصل کیے جا سکتے ہیں۔ دوسری جانب کچھ وکلاء اس تبدیلی کا خیرمقدم کر رہے ہیں، جن کا ماننا ہے کہ لامتناہی کاغذی کارروائی سے چھٹکارا انصاف کی فراہمی میں اہم سنگ میل ثابت ہوگا۔
فی الحال، یہ منصوبہ تجرباتی مرحلے میں ہے۔ یہ دیکھنا باقی ہے کہ آیا یہ ٹیکنالوجی انصاف کی راہ ہموار کرتی ہے یا پہلے سے بوجھ تلے دبے نظام میں پیچیدگیاں پیدا کرتی ہے۔ اس کا دارومدار اس بات پر ہے کہ سافٹ ویئر کو حقیقی مقدمات میں استعمال کرنے سے پہلے اس کی جانچ پڑتال کتنی سخت رکھی جاتی ہے۔
