کراچی: پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں بدھ، 29 اپریل 2026 کو شدید مندی دیکھی گئی اور بینچ مارک KSE-100 انڈیکس 2,588.35 پوائنٹس کی کمی کے بعد 165,823.88 پر بند ہوا۔ دن بھر کے کاروبار میں انڈیکس 168,863.86 پر کھلا، 169,686.03 کی بلند ترین سطح تک گیا، پھر فروخت کے دباؤ کے باعث 165,391.47 کی کم ترین سطح تک پھسل گیا۔ دستیاب تاریخی مارکیٹ ڈیٹا کے مطابق یومیہ حجم تقریباً 448.99 ملین رہا، جبکہ دن کے اختتام پر مجموعی کمی 1.54 فیصد ریکارڈ کی گئی۔
مارکیٹ کی یہ گراوٹ ایک الگ واقعہ نہیں لگتی، بلکہ اپریل کے آخری حصے میں دیکھی جانے والی اتار چڑھاؤ بھری ٹریڈنگ کا تسلسل محسوس ہوتی ہے۔ 23 اپریل کو بھی KSE-100 میں 2,400 سے زیادہ پوائنٹس کی کمی ریکارڈ ہوئی تھی اور انڈیکس 169,173.37 پر بند ہوا تھا، جسے مقامی مالیاتی رپورٹنگ میں مسلسل فروخت کے دباؤ سے جوڑا گیا۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ سرمایہ کاروں کا اعتماد ابھی پوری طرح مستحکم نہیں ہوا، اور تیزی کے مختصر وقفوں کے بعد منافع لینے یا رسک کم کرنے کا رجحان بار بار سامنے آ رہا ہے۔
اپریل 2026 کے دوران PSX میں غیر معمولی تیزی اور تیز مندی دونوں دیکھنے میں آئیں۔ Business Recorder کی حالیہ کوریج کے مطابق 8 اپریل کو KSE-100 نے ایک تاریخی جست لگائی تھی اور انڈیکس 165,811 تک جا پہنچا، جبکہ 13 اپریل کو وہی مارکیٹ شدید دباؤ میں آ کر 160,591.33 تک گر گئی۔ بعد کے دنوں میں سعودی مالی معاونت، علاقائی سفارتی اشاروں اور ممکنہ امن مذاکرات جیسی خبروں پر مارکیٹ نے دوبارہ سنبھلنے کی کوشش کی، لیکن اپریل کے آخری ہفتے میں واضح ہوا کہ جذبات اب بھی بہت نازک ہیں اور خبروں پر ردعمل تیز اور غیر متوازن رہتا ہے۔
بدھ کی اس مندی سے یہی اشارہ ملتا ہے کہ خریداروں کے مقابلے میں فروخت کنندگان زیادہ متحرک رہے۔ جب مارکیٹ کھلنے کے بعد اوپر جانے کی کوشش کرے مگر سیشن کے اختتام تک نچلی سطحوں کے قریب بند ہو، تو عام طور پر اسے کمزور سرمایہ کارانہ اعتماد، منافع کے حصول، یا قلیل مدتی خطرات کے باعث پوزیشنیں کم کرنے کی علامت سمجھا جاتا ہے۔ 29 اپریل کے اعداد بھی یہی بتاتے ہیں کہ انڈیکس نے دن کے آغاز میں مزاحمت دکھائی، مگر آخرکار دباؤ برداشت نہ کر سکا۔
سرمایہ کاروں کے لیے اہم بات یہ ہے کہ PSX کے حالیہ رجحان میں بنیادی معاشی عوامل کے ساتھ ساتھ علاقائی اور بین الاقوامی خبریں بھی نمایاں کردار ادا کر رہی ہیں۔ اپریل کے دوران مقامی اور بین الاقوامی رپورٹوں میں جغرافیائی سیاسی کشیدگی، امن مذاکرات سے متعلق غیر یقینی، اور رسک آف سینٹیمنٹ کو بار بار مارکیٹ کی سمت پر اثرانداز عوامل کے طور پر بیان کیا گیا۔ یہی وجہ ہے کہ حالیہ سیشنز میں انڈیکس کبھی تیزی سے اوپر گیا اور کبھی اتنی ہی تیزی سے نیچے آیا۔
مجموعی طور پر، 29 اپریل کی یہ 2,588 پوائنٹس کی کمی اس بات کی یاد دہانی ہے کہ PSX اس وقت ایک حساس مرحلے میں داخل ہے، جہاں خبریں، سرمایہ کارانہ جذبات اور قلیل مدتی پوزیشننگ مل کر انڈیکس کی سمت طے کر رہے ہیں۔ اب مارکیٹ کی اگلی چند نشستیں اہم ہوں گی، کیونکہ انہی سے واضح ہوگا کہ آیا یہ گراوٹ صرف وقتی دباؤ تھی یا سرمایہ کار واقعی محتاط موڈ میں داخل ہو چکے ہیں۔
