لندن کے علاقے گولڈرز گرین میں بدھ، 29 اپریل 2026 کو دو یہودی افراد پر چاقو سے حملہ کیا گیا، جس کے بعد پولیس نے ایک 45 سالہ مشتبہ شخص کو گرفتار کر لیا۔ برطانوی حکام نے بعد میں اس واقعے کو دہشت گردی سے متعلق واقعہ قرار دیا، جبکہ انسدادِ دہشت گردی پولیس نے تفتیش اپنے ہاتھ میں لے لی ہے۔
پولیس کے مطابق زخمی ہونے والے دونوں افراد کی عمریں 34 اور 76 سال ہیں۔ دونوں کو فوری طور پر اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں ان کی حالت خطرے سے باہر بتائی گئی۔ مشتبہ شخص کو اقدامِ قتل کے شبہے میں حراست میں لیا گیا ہے۔
عینی شاہدین اور مقامی اطلاعات کے مطابق ملزم گولڈرز گرین روڈ پر چاقو کے ساتھ دیکھا گیا اور اس نے مبینہ طور پر مزید راہگیروں پر حملہ کرنے کی بھی کوشش کی۔ رپورٹوں میں کہا گیا ہے کہ مقامی یہودی کمیونٹی کے رضاکاروں نے اسے قابو میں کرنے میں مدد دی، جس کے بعد پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے اسے گرفتار کر لیا۔
تحقیقاتی ادارے اب یہ جاننے کی کوشش کر رہے ہیں کہ آیا حملہ جان بوجھ کر یہودی برادری کو نشانہ بنانے کے لیے کیا گیا۔ یہی پہلو اس کیس کو غیر معمولی اہمیت دے رہا ہے، کیونکہ گولڈرز گرین شمالی لندن کا وہ علاقہ ہے جہاں یہودی آبادی نمایاں تعداد میں آباد ہے۔
یہ حملہ ایک ایسے وقت میں ہوا ہے جب شمال مغربی لندن میں یہود مخالف واقعات پر پہلے ہی تشویش پائی جا رہی ہے۔ حالیہ ہفتوں میں گولڈرز گرین اور فنچلے میں آتش زنی کے ایسے واقعات بھی سامنے آئے ہیں جنہیں حکام نے مشتبہ نفرت انگیز کارروائیوں کے طور پر دیکھا ہے۔ ان مقدمات کی تفتیش بھی انسدادِ دہشت گردی یونٹ کر رہا ہے۔
واقعے کے بعد برطانیہ کی سیاسی اور سماجی قیادت کی جانب سے سخت ردِعمل سامنے آیا۔ وزیرِ اعظم کیئر اسٹارمر نے یہودی برادری پر حملوں کو پورے برطانیہ پر حملہ قرار دیا، جبکہ لندن کے میئر صادق خان اور مختلف یہودی تنظیموں کے رہنماؤں نے بھی واقعے کی مذمت کی اور فوری، سخت کارروائی کا مطالبہ کیا۔
گولڈرز گرین کے رہائشیوں کے لیے یہ صرف ایک مجرمانہ حملہ نہیں، بلکہ بڑھتے ہوئے خوف کی ایک اور علامت ہے۔ مقامی کمیونٹی پہلے ہی حالیہ واقعات کے باعث دباؤ میں تھی، اور اب اس نئے حملے نے سیکیورٹی اور تحفظ کے سوالات کو مزید گہرا کر دیا ہے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ تفتیش جاری ہے اور ملزم کے محرکات، حملے کے مکمل تسلسل اور کسی ممکنہ وسیع تر تعلق کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔ فی الحال دونوں زخمی افراد کی حالت مستحکم ہے، لیکن اس واقعے نے شمالی لندن کی یہودی برادری میں بے چینی مزید بڑھا دی ہے۔
