MediaHydeMediaHyde
  • صفحہ اول
  • سیاست
  • تعلیم
  • انٹرٹینمنٹ
  • کھیل
  • بلاگ
  • کاروبار اور تجارت
  • دیگر
    • مذہبی
    • میٹروپولیٹن
    • موسمیات و ماحولیات
Font ResizerAa
MediaHydeMediaHyde
Font ResizerAa
  • صفحہ اول
  • سیاست
  • تعلیم
  • انٹرٹینمنٹ
  • کھیل
  • بلاگ
  • کاروبار اور تجارت
  • دیگر
    • مذہبی
    • میٹروپولیٹن
    • موسمیات و ماحولیات
Follow US
© 2026 Media Hyde Network. All Rights Reserved
تازہ ترینسیاست

امارات کی علیحدگی سے اوپیک کا اثر و رسوخ مزید کمزور

Last updated: اپریل 29, 2026 8:01 شام
Ayesha Masood
Share
امارات کی علیحدگی سے اوپیک کا اثر و رسوخ مزید کمزور
امارات کی علیحدگی سے اوپیک کا اثر و رسوخ مزید کمزور
SHARE

متحدہ عرب امارات کے اوپیک چھوڑنے کے فیصلے نے عالمی تیل اتحاد میں ایک نئی دراڑ واضح کر دی ہے، اور یہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب تنظیم کی گرفت پہلے ہی ماضی کے مقابلے میں کمزور دکھائی دے رہی ہے۔ 28 اپریل 2026 کو امارات نے اعلان کیا کہ وہ یکم مئی 2026 سے اوپیک سے الگ ہو جائے گا، یوں کئی دہائیوں پر محیط رکنیت کا خاتمہ ہو جائے گا اور تنظیم اپنے بڑے تیل پیدا کرنے والے ارکان میں سے ایک سے محروم ہو جائے گی۔

یہ معاملہ اس لیے اہم ہے کہ امارات محض علامتی رکن نہیں تھا۔ وہ اوپیک کے بڑے پیداواری ممالک میں شامل ہے، اور اس سے بھی بڑھ کر یہ کہ وہ ان چند ممالک میں سے ایک ہے جن کے پاس اضافی پیداواری گنجائش موجود ہے۔ سادہ لفظوں میں، جب منڈی میں طلب بڑھے یا رسد تنگ ہو، تو امارات ان ملکوں میں شامل تھا جو واقعی پیداوار بڑھا سکتے تھے۔ ایسے رکن کا نکل جانا اوپیک کو صرف عددی لحاظ سے نہیں بلکہ عملی طور پر بھی کمزور کرتا ہے۔

یہ علیحدگی اچانک نہیں ہوئی۔ رپورٹس کے مطابق ابو ظہبی کافی عرصے سے پیداواری کوٹوں پر ناخوش تھا، کیونکہ ان حدود کی وجہ سے وہ اپنی بڑھتی ہوئی صلاحیت کے باوجود نہ پوری پیداوار کر پا رہا تھا اور نہ ہی زیادہ مارکیٹ شیئر حاصل کر پا رہا تھا۔ امارات کا ہدف 2027 تک اپنی پیداواری صلاحیت تقریباً 50 لاکھ بیرل یومیہ تک لے جانا ہے، اور یہ مقصد اوپیک کے اس نظام سے متصادم دکھائی دیتا تھا جو ارکان کو محدود پیداوار پر قائم رکھنا چاہتا ہے۔

اس فیصلے کے پیچھے ایک وسیع تر حکمتِ عملی بھی نظر آتی ہے۔ امارات صرف ایک روایتی تیل برآمد کنندہ ریاست کے طور پر نہیں رہنا چاہتا، بلکہ وہ خود کو توانائی، سرمایہ کاری اور علاقائی اثر و رسوخ کے بڑے مرکز کے طور پر پیش کر رہا ہے۔ ایسی صورت میں وہ عالمی منڈی کے تقاضوں کے مطابق زیادہ آزادانہ فیصلہ سازی چاہتا ہے۔ توانائی کے عالمی منظرنامے میں تبدیلی، اور مستقبل میں فوسل فیول کی طلب سے متعلق غیر یقینی صورتِ حال، تیل پیدا کرنے والے ملکوں کو یہ سوچنے پر مجبور کر رہی ہے کہ وہ اپنے ذخائر سے زیادہ سے زیادہ فائدہ جلد از جلد کیسے اٹھائیں۔

اوپیک کے لیے نقصان صرف معاشی نہیں، سیاسی بھی ہے۔ اس تنظیم کی بنیاد اجتماعی حکمتِ عملی پر رکھی گئی تھی، اور اس کی طاقت کا بڑا حصہ اس تصور سے آتا ہے کہ بڑے پیدا کرنے والے ممالک ایک پلیٹ فارم پر رہ کر مشترکہ فیصلے کر سکتے ہیں۔ جب ایک اہم رکن الگ ہو جائے تو یہ پیغام جاتا ہے کہ قومی مفاد اب مشترکہ نظم و ضبط پر غالب آ رہا ہے۔ موجودہ تجزیوں کے مطابق اس کا نتیجہ زیادہ بکھری ہوئی منڈی، قیمتوں میں زیادہ اتار چڑھاؤ، اور اوپیک کی اجتماعی طاقت پر کم اعتماد کی صورت میں نکل سکتا ہے۔

قلیل مدت میں تیل کی قیمتیں اب بھی وسیع تر جغرافیائی سیاسی عوامل سے متاثر ہو رہی ہیں، خاص طور پر آبنائے ہرمز کے اردگرد کشیدگی اور رسد کے خدشات سے۔ اس لیے یہ کہنا درست نہیں ہوگا کہ امارات کے نکلتے ہی عالمی تیل منڈی فوراً نئی شکل اختیار کر لے گی۔ مگر طویل مدت میں یہ قدم اوپیک کی ساکھ کو ضرور نقصان پہنچاتا ہے۔ کسی بھی کارٹیل کی اصل طاقت اسی میں ہوتی ہے کہ وہ اپنے سب سے اہم ارکان کو ایک صف میں رکھ سکے، اور اس وقت یہی چیز مشکل دکھائی دے رہی ہے۔

اس صورتحال کو مزید اہم اس لیے بھی سمجھا جا رہا ہے کہ کچھ ہی عرصہ پہلے اوپیک کی سرکاری دستاویزات میں امارات کو ان ملکوں میں شامل دکھایا گیا تھا جو منڈی کے استحکام کے لیے رضاکارانہ پیداواری ایڈجسٹمنٹ پر کام کر رہے تھے۔ اب اچانک اسی اہم رکن کا تنظیم سے الگ ہونا اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ اندرونی ہم آہنگی بظاہر جتنی مضبوط دکھ رہی تھی، حقیقت میں اتنی نہیں تھی۔

اس لیے یہ کہنا بے جا نہیں کہ امارات کی علیحدگی سے اوپیک کا اثر و رسوخ مزید کمزور ہوا ہے۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ اوپیک فوراً غیر مؤثر ہو جائے گا، یا سعودی عرب کی اہمیت ختم ہو جائے گی۔ مگر یہ ضرور ہے کہ تنظیم نے ایک ایسا امیر، کم لاگت، اور توسیع کی صلاحیت رکھنے والا رکن کھو دیا ہے جو مستقبل میں بھی بہت وزن رکھتا تھا۔ عالمی منڈیاں ایسے فیصلوں کو جلد نہیں بھولتیں۔

Share This Article
Facebook Whatsapp Whatsapp Email Copy Link Print
Previous Article عدالتی نظام میں مصنوعی ذہانت کا استعمال: پاکستان میں ڈیجیٹل انقلاب کی تیاری
Next Article ڈاکٹر باہو: پاکستانی ڈراموں کے روایتی ‘ٹاکسک’ سانچوں سے انحراف
کوئی تبصرہ نہیں ہے۔

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

اشتہار

FacebookLike
XFollow
InstagramFollow
YoutubeSubscribe
WhatsAppFollow
ThreadsFollow
ایس ایف جے کا کراچی حملے میں بھارتی خفیہ ایجنسیوں کے ملوث ہونے کا دعویٰ، رینجرز کو خراجِ تحسین
ایس ایف جے کا کراچی حملے میں بھارتی خفیہ ایجنسیوں کے ملوث ہونے کا دعویٰ، رینجرز کو خراجِ تحسین
تازہ ترین سیاست
جون 29, 2026
کورنگی کراسنگ: تیزاب گردی کا واقعہ، نوجوان خاتون جھلس کر زخمی
کورنگی کراسنگ: تیزاب گردی کا واقعہ، نوجوان خاتون جھلس کر زخمی
تازہ ترین عدالت اور جرائم
جون 29, 2026
جولائی کے پہلے ہفتے سے ملک بھر میں مون سون بارشوں کا آغاز، اربن فلڈنگ کا خدشہ
جولائی کے پہلے ہفتے سے ملک بھر میں مون سون بارشوں کا آغاز، اربن فلڈنگ کا خدشہ
تازہ ترین موسمیات و ماحولیات
جون 29, 2026
گوگل نے اپنے ڈیجیٹل والیٹ میں پارسل ٹریکنگ کا نیا خودکار فیچر متعارف کرا دیا
گوگل نے اپنے ڈیجیٹل والیٹ میں پارسل ٹریکنگ کا نیا خودکار فیچر متعارف کرا دیا
کاروبار اور تجارت
جون 29, 2026
اوپن مارکیٹ میں پاکستانی روپے کے مقابلے ایرانی ریال کی قیمت میں کمی؛ سٹہ بازی اور خریداروں کی دلچسپی برقرار
اوپن مارکیٹ میں پاکستانی روپے کے مقابلے ایرانی ریال کی قیمت میں کمی؛ سٹہ بازی اور خریداروں کی دلچسپی برقرار
کاروبار اور تجارت
جون 29, 2026
کراچی میں ڈکیتی کے دوران قتل، زخمی بہو پانچ گھنٹے مدد کی منتظر رہی
کراچی میں ڈکیتی کے دوران قتل، زخمی بہو پانچ گھنٹے مدد کی منتظر رہی
تازہ ترین عدالت اور جرائم
جون 29, 2026

You Might Also Like

بدلتے آسمانوں کی جھلکیاں، شہابیوں سے لے کر سورج کی کرنوں تک
تازہ ترینموسمیات و ماحولیات

بدلتے آسمانوں کی جھلکیاں، شہابیوں سے لے کر سورج کی کرنوں تک

By Ayesha Masood
سیاست

پاکستان کی مائننگ انڈسٹری کی تاریخی کامیابی – عالمی گولڈ سرٹیفکیشن حاصل کرلی

By Hannan Khani
سیاست

ٹرمپ اور مسک میں لفظوں کی جنگ: سابق اتحادی، اب سیاسی دشمن؟

By Hannan Khani
سیاست

پاکستان کا اقوام متحدہ کانفرنس میں سمندروں کے تحفظ کے لیے عالمی اقدامات پر زور

By Hannan Khani
MediaHyde
Facebook Twitter Youtube Rss Medium

About US

Your instant connection to breaking stories and live updates. Stay informed with our real-time coverage across politics, tech, entertainment, and more. Your reliable source for 24/7 news.

Top Categories
  • تازہ ترین
  • سیاست
  • انٹرٹینمنٹ
  • تعلیم
  • کھیل
  • مذہبی
  • میٹروپولیٹن
  • موسمیات و ماحولیات
Usefull Links
  • Contact Us
  • Disclaimer
  • Privacy Policy
  • Cookies Policy
  • Advertising Policy
  • Terms & Conditions

© 2025 Media Hyde Network. All Rights Reserved.

Welcome Back!

Sign in to your account

Username or Email Address
Password

Lost your password?