پنجاب حکومت نے ڈرائیونگ لائسنس کی ترسیل میں شفافیت لانے کے لیے ایک نیا لائیو ٹریکنگ سسٹم متعارف کروا دیا ہے۔ اس اقدام کا مقصد ان ہزاروں شہریوں کی مشکلات کو کم کرنا ہے جو لائسنس بنوانے کے بعد مہینوں تک گھر پہنچنے کا انتظار کرتے رہتے تھے۔
محکمہ ٹرانسپورٹ کے حکام کے مطابق، اب لائسنس کے حصول کے لیے درخواست دینے والے شہری آن لائن پورٹل کے ذریعے اپنے لائسنس کی موجودہ حیثیت معلوم کر سکیں گے۔ اس سسٹم سے نہ صرف غیر یقینی صورتحال ختم ہوگی بلکہ یہ بھی معلوم ہو سکے گا کہ لائسنس پرنٹنگ کے کس مرحلے پر ہے یا اسے کوریئر کے حوالے کر دیا گیا ہے یا نہیں۔
اس سے قبل، شہریوں کو صرف ایس ایم ایس نوٹیفکیشن پر انحصار کرنا پڑتا تھا، جو اکثر تکنیکی خرابیوں کے باعث موصول نہیں ہوتے تھے۔ اس نئے نظام کے تحت، لائسنس کی پرنٹنگ سے لے کر ڈسپیچ تک کا سارا عمل ایک ڈیجیٹل کڑی سے جڑ گیا ہے۔
محکمہ ٹرانسپورٹ کے ایک سینئر عہدیدار نے بتایا کہ "ہمارا مقصد لائسنس کے حصول کے عمل کو شفاف بنانا ہے۔ اب شہری کو بار بار دفاتر کے چکر نہیں لگانے پڑیں گے اور نہ ہی اسے یہ سوچنا پڑے گا کہ اس کا لائسنس کہاں پھنسا ہوا ہے۔”
حقیقت یہ ہے کہ پنجاب میں لائسنس کے بیک لاگ کی بڑی وجہ گزشتہ سالوں میں پرنٹنگ کارڈز اور لیمینیشن پیپر کی کمی تھی۔ نیا ٹریکنگ سسٹم پرنٹنگ کی رفتار تو نہیں بڑھائے گا، لیکن یہ نظام میں جوابدہی کا عنصر ضرور لائے گا۔ اگر لائسنس کی ترسیل میں تاخیر ہوتی ہے، تو سسٹم واضح کرے گا کہ رکاوٹ کہاں ہے؛ پرنٹنگ کے عمل میں، تصدیق کے مرحلے پر یا کوریئر سروس کے پاس۔
صوبے بھر میں ڈرائیونگ لائسنس کے منتظر لاکھوں افراد کے لیے یہ ایک خوش آئند پیش رفت ہے۔ تاہم، اصل چیلنج اس ڈیجیٹل انفراسٹرکچر کی پائیداری ہے۔ کیا یہ سسٹم روزانہ کی بنیاد پر آنے والی لاکھوں درخواستوں کے بوجھ کو بغیر کسی تکنیکی خرابی کے برداشت کر پائے گا؟ اس کا جواب آنے والے دنوں میں ملے گا۔
فی الحال، ٹریکنگ پورٹل کو فعال کر دیا گیا ہے۔ حکام نے شہریوں کو ہدایت کی ہے کہ لائسنسنگ سینٹرز پر جانے سے پہلے وہ آن لائن پورٹل پر اپنی درخواست کا اسٹیٹس ضرور چیک کر لیں۔
