راولپنڈی ڈسٹرکٹ کورٹس کے باہر گزشتہ روز ہونے والی فائرنگ کے واقعے نے سیاسی درجہ حرارت میں اضافہ کر دیا ہے۔ اس ہنگامے کے نتیجے میں ایک شخص کی ہلاکت اور متعدد افراد کے زخمی ہونے کے بعد، پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے سرکاری بیانیے کو مسترد کرتے ہوئے واقعے کی عدالتی تحقیقات کا باقاعدہ مطالبہ کر دیا ہے۔
واقعہ کل سہ پہر اس وقت پیش آیا جب عدالت کے باہر احتجاجی مظاہرہ پرتشدد شکل اختیار کر گیا۔ پولیس کا دعویٰ ہے کہ فائرنگ سیاسی حریفوں کے درمیان تصادم کا نتیجہ تھی، تاہم پی ٹی آئی قیادت کا موقف ہے کہ ہجوم میں سادہ لباس اہلکار موجود تھے جنہوں نے جان بوجھ کر صورتحال کو بگاڑا۔
پی ٹی آئی کے ایک مرکزی ترجمان نے گزشتہ رات پریس کانفرنس میں کہا کہ ’’ہمیں پولیس کی داخلی رپورٹ پر کوئی اعتماد نہیں۔ یہ وہی لوگ ہیں جن کی ذمہ داری سیکیورٹی فراہم کرنا تھی، لیکن انہوں نے فائرنگ کے دوران خاموش تماشائی کا کردار ادا کیا۔ ہم چاہتے ہیں کہ کوئی جج واقعے کی فوٹیج دیکھے اور اصل ذمہ داروں کا تعین کرے۔‘‘
صوبائی حکومت نے واقعے کی حقیقت جاننے کے لیے ایک فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی تشکیل دینے کا اعلان کیا ہے، مگر عوامی حلقوں میں اس پر شکوک و شبہات پائے جاتے ہیں۔ بے نظیر بھٹو ہسپتال میں زیر علاج زخمیوں کے بیانات متضاد ہیں۔ کچھ افراد کا کہنا ہے کہ حملہ آور سیاسی کارکن تھے، جبکہ دیگر کے مطابق گولیاں پولیس کی حدود کے اندر سے چلائی گئیں۔
یہ تصادم ملکی سیاسی ماحول میں ایک نیا تنازعہ بن کر ابھرا ہے۔ راولپنڈی—جو عسکری ہیڈکوارٹرز کا گڑھ ہے—میں گزشتہ 48 گھنٹوں کے دوران سیکیورٹی انتہائی سخت کر دی گئی ہے۔ اہم چوراہوں پر نیم فوجی دستے گشت کر رہے ہیں اور عدالتی کمپلیکس کے قریب دفعہ 144 نافذ کر کے عوامی اجتماعات پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔
مقامی تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ یہ معاملہ محض ایک مقامی جھگڑے تک محدود نہیں رہے گا۔ پی ٹی آئی اور حکومتی اتحاد کے درمیان پہلے سے کشیدہ تعلقات کے پیش نظر، عدالتی کمیشن کا مطالبہ دراصل ریاست کی جانب سے اپوزیشن کے مظاہروں کو ہینڈل کرنے کے طریقہ کار پر سوال اٹھانے کی ایک کوشش ہے۔
پولیس نے تاحال ’’نامعلوم افراد‘‘ کے خلاف مقدمہ درج کیا ہے، جسے پی ٹی آئی نے وقت ضائع کرنے کا روایتی ہتھکنڈا قرار دیا ہے۔ پارٹی نے دھمکی دی ہے کہ اگر غیر جانبدار تحقیقات نہ ہوئیں تو ملک گیر احتجاج شروع کیا جائے گا، جس سے شہر کا نظام مفلوج ہو سکتا ہے۔
واقعے میں جاں بحق ہونے والے شخص کی پوسٹ مارٹم رپورٹ کل متوقع ہے۔ اس رپورٹ سے یہ واضح ہو سکے گا کہ حملہ کس قسم کے اسلحے سے کیا گیا—یہ ایک ایسا تکنیکی نکتہ ہے جو یا تو پولیس کے دعووں کو درست ثابت کرے گا یا پھر ان کے بیانیے کو مکمل طور پر بے نقاب کر دے گا۔
