یوٹیوب نے 2027 سے اپنے مونیٹائزیشن قوانین میں بڑی تبدیلیوں کا اعلان کر دیا ہے۔ پلیٹ فارم اب روایتی اشتہاری آمدنی پر انحصار کم کرنے کی تیاری کر رہا ہے، جس کا مقصد تخلیق کاروں کو براہ راست اپنے مداحوں سے کمائی کرنے اور ای-کامرس کے ذریعے اپنی مالی بنیاد مضبوط کرنے پر مجبور کرنا ہے۔
یہ تبدیلی اس دور کا خاتمہ ہے جہاں تخلیق کار صرف اشتہارات کے ذریعے اپنی چینل کی معاشی بقا یقینی بناتے تھے۔ یوٹیوب کے اندرونی ذرائع کے مطابق، جو تخلیق کار صرف ‘ایڈ سینس’ پر انحصار کرتے ہیں، ان کی آمدنی میں نمایاں کمی متوقع ہے، جب تک کہ وہ اپنے آمدنی کے ذرائع کو متنوع نہیں بناتے۔
یوٹیوب کے چیف پروڈکٹ آفیسر نیل موہن نے حال ہی میں اس سمت اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ اقدام تخلیق کاروں کو ان کے مالی مستقبل پر زیادہ اختیار دینے کے لیے ہے۔
ایک اعلیٰ سطحی اجلاس کے دوران یوٹیوب کے پارٹنرشپ مینیجر نے تخلیق کاروں سے بات کرتے ہوئے کہا، "ہم اب صرف ایک ویڈیو سائٹ نہیں رہے۔ 2027 کا ہدف یہ ہے کہ تخلیق کار کی آمدنی کا تعلق صرف اشتہاری مارکیٹ کے اتار چڑھاؤ سے نہ ہو، بلکہ ان کی کمیونٹی کی مصروفیت سے ہو۔”
تخلیق کاروں کے لیے یہ چیلنج بڑا ہے۔ نئے قوانین کے تحت ‘یوٹیوب پارٹنر پروگرام’ کی اہلیت کے معیارات سخت کیے جا رہے ہیں، جس کا مقصد غیر فعال یا کم مصروفیت والے چینلز کو ہٹانا ہے۔ جو تخلیق کار اس تبدیلی میں بقا چاہتے ہیں، انہیں ‘فین-فرسٹ’ ٹولز—جیسے کہ خصوصی مواد، ڈیجیٹل مصنوعات کی فروخت، اور ممبرشپ ٹیرز—کا استعمال کرنا ہوگا۔
ناقدین کا کہنا ہے کہ یوٹیوب دراصل مالی خطرے کا بوجھ اپنے کندھوں سے اتار کر تخلیق کاروں پر ڈال رہا ہے۔ اگر کوئی چینل اپنے ناظرین کو ادائیگی کرنے والے سبسکرائبرز میں تبدیل کرنے میں ناکام رہتا ہے، تو یوٹیوب کا نیا الگورتھم—جو ان ٹولز کو استعمال کرنے والے تخلیق کاروں کو ترجیح دے گا—ان کے مواد کو فیڈ میں نیچے دھکیل دے گا۔
یہ تبدیلی ‘کری ایٹر اکانومی’ کے وسیع تر رجحانات کی عکاسی کرتی ہے، جہاں پلیٹ فارمز اشتہارات کی غیر مستحکم مارکیٹ پر انحصار کم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ یوٹیوب کا داؤ یہ ہے کہ وہ تخلیق کاروں کو ‘براڈکاسٹر’ کے بجائے ‘کاروباری’ بننے پر مجبور کر کے اپنے ایکو سسٹم کو محفوظ بنا لے۔
جنوری 2027 سے یوٹیوب اسٹوڈیو کا ‘مونیٹائزیشن ٹیب’ بالکل مختلف نظر آئے گا۔ جن تخلیق کاروں نے اس وقت تک آمدنی کے متبادل ذرائع قائم نہیں کیے، انہیں اپنی ماہانہ آمدنی میں پہلا بڑا جھٹکا لگے گا۔
یوٹیوب کا پیغام واضح ہے: اب صرف ویوز کافی نہیں ہوں گے۔ جو تخلیق کار اس نئے کاروباری ماڈل کے مطابق خود کو نہیں ڈھالیں گے، وہ جلد ہی خود کو بڑی تعداد میں ویوز کے باوجود خالی ہاتھ پائیں گے۔
