نیویارک: دنیا ایک ایسے اہم موسمیاتی مرحلے کی طرف بڑھ رہی ہے جس کے بارے میں سائنسدان اور پالیسی ساز کئی برسوں سے خبردار کرتے آئے ہیں۔ عالمی درجہ حرارت میں اضافہ 1.5 ڈگری سیلسیس کی حد سے مستقل طور پر تجاوز کرنے کا امکان بڑھ گیا ہے، جسے 2015 کے پیرس موسمیاتی معاہدے میں اہم ہدف قرار دیا گیا تھا۔
اقوام متحدہ کے ماحولیاتی پروگرام (UNEP) کی ایک نئی رپورٹ کے مطابق اب 1.5 ڈگری کی حد عبور ہونا تقریباً ناگزیر دکھائی دیتا ہے۔ تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ اس کا مطلب یہ نہیں کہ موسمیاتی تبدیلی کے خلاف اقدامات بے فائدہ ہوگئے ہیں۔ اب توجہ اس بات پر ہونی چاہیے کہ درجہ حرارت میں اضافے کو ممکنہ حد تک کم رکھا جائے، 1.5 ڈگری سے اوپر رہنے کا دورانیہ محدود کیا جائے اور مستقبل میں درجہ حرارت کو دوبارہ کم کرنے کی کوشش کی جائے۔
1.5 ڈگری سیلسیس کی حد کیا ہے؟
1.5 ڈگری سیلسیس سے مراد صنعتی دور سے پہلے، یعنی 1850 سے 1900 کے دوران عالمی اوسط درجہ حرارت کے مقابلے میں موجودہ عالمی درجہ حرارت میں اضافہ ہے۔
اس حد کو پیرس معاہدے کے تحت ایک اہم مقصد اس لیے بنایا گیا تھا کیونکہ اس سے زیادہ درجہ حرارت پر شدید موسمیاتی اثرات کے خطرات نمایاں طور پر بڑھ جاتے ہیں۔
یہ بات بھی اہم ہے کہ کسی ایک مہینے یا سال کا درجہ حرارت 1.5 ڈگری سے اوپر چلے جانا اور طویل مدتی عالمی درجہ حرارت کا اس حد سے تجاوز کرنا ایک جیسی چیزیں نہیں ہیں۔ تاہم حالیہ برسوں کے اعداد و شمار تشویش میں مسلسل اضافہ کر رہے ہیں۔
دنیا پہلے ہی اثرات کا سامنا کر رہی ہے
عالمی درجہ حرارت میں اضافے کے اثرات پہلے ہی مختلف خطوں میں نظر آ رہے ہیں۔
شدید گرمی کی لہریں، خشک سالی، جنگلاتی آگ، سیلاب اور شدید طوفان موسمیاتی تبدیلی کے ساتھ مزید خطرناک ہو رہے ہیں۔
اگست 2026 بھی دنیا کے گرم ترین مہینوں میں شامل رہا، جب عالمی اوسط درجہ حرارت صنعتی دور سے پہلے کے مقابلے میں تقریباً 1.65 ڈگری سیلسیس زیادہ ریکارڈ کیا گیا۔
ماہرین کے مطابق طویل مدت میں 1.5 ڈگری کی حد سے تجاوز ہونے کی صورت میں ان خطرات میں مزید اضافہ ہوسکتا ہے، خاص طور پر ان علاقوں میں جہاں لوگ پہلے ہی موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے زیادہ متاثر ہو رہے ہیں۔
دنیا 1.5 ڈگری پر رک کیوں نہیں سکتی؟
اس کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ فضا میں پہلے ہی بڑی مقدار میں گرین ہاؤس گیسز موجود ہیں۔
سائنسدانوں کے مطابق 1.5 ڈگری کی حد کے اندر رہنے کے لیے دنیا کے پاس باقی رہ جانے والا کاربن بجٹ تیزی سے کم ہو رہا ہے۔
موجودہ رفتار سے کاربن کے اخراج میں کمی نہ آئی تو یہ محدود بجٹ آنے والے چند برسوں میں ختم ہوسکتا ہے۔
اسی لیے سائنسدان اب “overshoot” کی صورتحال پر بھی بات کر رہے ہیں، جس میں عالمی درجہ حرارت پہلے 1.5 ڈگری سے اوپر جائے اور پھر مستقبل میں کاربن کے اخراج میں کمی اور کاربن کے اخراج کو ماحول سے نکالنے کے ذریعے دوبارہ نیچے لانے کی کوشش کی جائے۔
1.5 ڈگری کے بعد کیا ہوگا؟
اس حد کو عبور کرنے کا مطلب یہ نہیں کہ دنیا اچانک ناقابلِ رہائش بن جائے گی۔
اصل مسئلہ یہ ہے کہ درجہ حرارت میں اضافے کا ہر اضافی حصہ خطرات کو بڑھاتا ہے۔
زیادہ گرمی کے ساتھ شدید ہیٹ ویوز، برفانی تودوں اور گلیشیئرز کا پگھلاؤ، سمندر کی سطح میں اضافہ، جنگلی حیات اور قدرتی ماحول کو نقصان اور خوراک و پانی کی سلامتی کے مسائل بڑھ سکتے ہیں۔
کچھ نقصانات ایسے بھی ہوسکتے ہیں جنہیں بعد میں مکمل طور پر واپس لانا ممکن نہ ہو۔
اب نیا ہدف کیا ہے؟
UNEP کے مطابق دنیا کو ایک ایسے راستے پر توجہ دینی چاہیے جس میں عالمی درجہ حرارت پہلے اپنی بلند ترین سطح تک پہنچے اور پھر کم ہونا شروع ہو۔
اس کے لیے چند اہم اقدامات ضروری ہیں:
- گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں تیزی سے کمی۔
- فوسل فیولز پر انحصار کم کرنا۔
- قابلِ تجدید توانائی کا استعمال بڑھانا۔
- جنگلات اور دیگر قدرتی کاربن ذخائر کا تحفظ۔
- ماحول سے کاربن ڈائی آکسائیڈ نکالنے کے طریقوں کو بہتر بنانا۔
- موسمیاتی تبدیلی کے موجودہ اثرات سے نمٹنے کے لیے بہتر انتظامات کرنا۔
کاربن ہٹانے کے لیے جنگلات کی بحالی اور نئی ٹیکنالوجیز جیسے Direct Air Capture استعمال کی جاسکتی ہیں، لیکن ماہرین کا کہنا ہے کہ کاربن ہٹانے کی ٹیکنالوجی فوسل فیول کے اخراج میں تیزی سے کمی کا متبادل نہیں ہوسکتی۔
ہر 0.1 ڈگری اہم ہے
سائنسدانوں کا سب سے اہم پیغام یہ ہے کہ 1.5 ڈگری کی حد عبور ہونے کے بعد موسمیاتی اقدامات کی اہمیت ختم نہیں ہوجاتی۔
اگر دنیا 1.6 ڈگری تک گرم ہوتی ہے تو یہ 1.8 ڈگری کے مقابلے میں نسبتاً محفوظ صورتحال ہوگی، جبکہ 1.8 ڈگری، 2 ڈگری یا اس سے زیادہ درجہ حرارت کے مقابلے میں کم نقصان دہ ہوگا۔
یعنی ہر اضافی 0.1 ڈگری سیلسیس اہم ہے۔
حالیہ عالمی جائزوں کے مطابق انتہائی پرعزم موسمیاتی اقدامات کی صورت میں عالمی درجہ حرارت تقریباً 1.8 ڈگری کے قریب بلند ترین سطح پر پہنچ کر رک سکتا ہے، جبکہ موجودہ پالیسیوں میں بڑی تبدیلی نہ ہونے کی صورت میں درجہ حرارت اس سے کہیں زیادہ بڑھ سکتا ہے۔
تو اب کیا کرنا ہوگا؟
موسمیاتی بحران اب ایک نئے مرحلے میں داخل ہوچکا ہے۔
سوال صرف یہ نہیں رہا کہ “کیا دنیا 1.5 ڈگری کی حد عبور کرنے سے بچ سکتی ہے؟” بلکہ یہ بھی ہے کہ “ہم درجہ حرارت میں اضافے کو کتنی جلد روک سکتے ہیں، 1.5 ڈگری سے اوپر جانے کے عرصے کو کتنا محدود کرسکتے ہیں اور موجودہ موسمیاتی نقصانات سے لوگوں کو کیسے محفوظ رکھ سکتے ہیں؟”
اس کے لیے قابلِ تجدید توانائی میں تیزی سے سرمایہ کاری، فوسل فیولز کے استعمال میں کمی، جنگلات کا تحفظ، موسمیاتی موافقت کے منصوبے اور کاربن کے اخراج میں کمی جیسے اقدامات ناگزیر ہیں۔
1.5 ڈگری کی حد عبور ہونا شاید ناگزیر ہو، لیکن 2، 2.5 یا اس سے زیادہ ڈگری تک پہنچنا پہلے سے طے شدہ نہیں۔ دنیا مستقبل میں کتنی گرم ہوگی، اس کا انحصار آج کیے جانے والے فیصلوں پر اب بھی بہت زیادہ ہے۔
