سپریم کورٹ نے گھریلو تشدد کے نتیجے میں ہونے والے قتل کے مقدمات کی تفتیش کے طریقہ کار میں بنیادی تبدیلی کا حکم دیتے ہوئے پولیس کو ہدایت کی ہے کہ وہ ان کیسز میں "صنفی حساسیت” کو لازمی قرار دے۔ عدالت کا ماننا ہے کہ تفتیشی افسران اکثر گھریلو قتل کو خاندانی تنازعہ سمجھ کر نظر انداز کر دیتے ہیں، جس سے مجرم قانون کی گرفت سے بچ نکلتے ہیں۔
جسٹس منصور علی شاہ کی جانب سے تحریر کردہ فیصلے میں کہا گیا ہے کہ گھریلو قتل کے واقعات کو محض جذباتی ردعمل یا نجی معاملہ قرار دے کر نمٹانا انصاف کا قتل ہے۔ عدالت نے نشاندہی کی کہ پولیس کا روایتی تفتیشی انداز اکثر سماجی تعصبات کے زیر اثر ہوتا ہے، جہاں تفتیش کار ملزم کے بیانیے کو ترجیح دیتے ہوئے مقتولہ کی کردار کشی یا "غیرت” کے نام پر جرم کا جواز تلاش کرنے لگتے ہیں۔
عدالت نے واضح کیا کہ گھریلو تشدد نجی مسئلہ نہیں بلکہ ایک منظم سماجی برائی ہے۔ نئے احکامات کے تحت تفتیشی افسران کو خصوصی تربیت دی جائے گی تاکہ وہ قتل سے قبل ہونے والے طویل المدتی جبر اور نفسیاتی تشدد کے پہلوؤں کو سمجھ سکیں۔ تفتیش کا دائرہ کار اب صرف جائے وقوعہ تک محدود نہیں رہے گا، بلکہ اس "تشدد کے چکر” کو دستاویزی شکل دی جائے گی جو آخرکار قتل پر منتج ہوتا ہے۔
ماضی میں پولیس پر یہ تنقید ہوتی رہی ہے کہ وہ گھریلو قتل کے مقدمات میں شواہد محفوظ کرنے کے بجائے فریقین کے درمیان "راضی نامہ” کروانے یا شواہد ضائع کرنے میں سہولت کار بنتی ہے۔ سپریم کورٹ کی نئی ہدایات ان تمام راستوں کو بند کرتی ہیں، جس کے تحت ریاست کی ذمہ داری ہے کہ وہ چار دیواری کے اندر ہونے والے جرائم میں بھی اتنی ہی سختی سے انصاف کرے جتنی عوامی مقامات پر ہونے والے جرائم میں کی جاتی ہے۔
عدالت نے ماتحت عدلیہ کو بھی خبردار کیا ہے کہ وہ مقدمات کی سماعت کے دوران صنفی تعصب پر مبنی فرسودہ خیالات سے گریز کریں۔ فیصلے میں کہا گیا ہے کہ جج صاحبان اس بات کو یقینی بنائیں کہ ملزم کے وکیل کسی بھی صورت میں مقتولہ کی نجی زندگی یا کردار کو جرم کا جواز بنانے کے لیے استعمال نہ کر سکیں۔
یہ عدالتی حکم اس پرانی سوچ کا خاتمہ ہے کہ گھر کے اندر کا معاملہ "خاندانی راز” ہے۔ سپریم کورٹ کی جانب سے تفتیشی نظام میں یہ تبدیلی اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ ریاست اب گھریلو تشدد کے متاثرین کو محض اعداد و شمار نہیں، بلکہ ایک منظم جرم کا شکار سمجھتی ہے۔ پولیس کے لیے پیغام واضح ہے: تفتیش میں "غیرت” یا "خاندانی مفاہمت” کے بجائے حقائق اور شواہد کی بنیاد پر انصاف کیا جائے، بصورت دیگر تعصب پر مبنی تفتیش کا خمیازہ کیس کے کمزور ہونے کی صورت میں بھگتنا پڑے گا۔
