انسانی حقوق کے کارکن اور وکیل جبران ناصر نے میر رضا علی کے قتل کے حوالے سے سنگین الزامات عائد کیے ہیں۔ ناصر کا کہنا ہے کہ مقتول کو موت کے گھاٹ اتارنے سے قبل 12 گھنٹے تک بدترین تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔
جبران ناصر کی جانب سے جاری کردہ تفصیلات کے مطابق، یہ واقعہ حراستی تشدد کے اس تسلسل کا حصہ ہے جس پر قانون نافذ کرنے والے ادارے خاموشی اختیار کیے ہوئے ہیں۔ ان کا دعویٰ ہے کہ میر رضا علی کی موت کسی اچانک جھڑپ کا نتیجہ نہیں تھی، بلکہ اسے حراست کے دوران گھنٹوں تک منظم طریقے سے جسمانی اذیت دی گئی۔
اس انکشاف کے بعد عوامی حلقوں میں شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے، اور ماورائے عدالت قتل کے خلاف ایک بار پھر سوالات اٹھ کھڑے ہوئے ہیں۔ ناصر نے مقتول کے جسم پر موجود زخموں کے نشانات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ طویل تکالیف کا واضح ثبوت ہیں۔ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ پوسٹ مارٹم رپورٹ میں تاخیر جان بوجھ کر کی گئی تاکہ تشدد کی شدت کو چھپایا جا سکے۔
جبران ناصر نے میڈیا بریفنگ کے دوران کہا، "میر رضا علی کو 12 گھنٹے تک قید میں رکھا گیا۔ ان 12 گھنٹوں کے دوران اسے توڑا گیا، مارا پیٹا گیا اور بالآخر قتل کر دیا گیا۔” انہوں نے روایتی پولیس انکوائری کو مسترد کرتے ہوئے عدالتی تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے، اور اسے ملوث اہلکاروں کو بچانے کی ایک کوشش قرار دیا ہے۔
اس واقعے کے بعد سول سوسائٹی کے گروہوں نے احتجاج شروع کر دیا ہے، جس میں نامزد افسران کو فوری معطل کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ عوامی دباؤ کے باوجود مقامی پولیس تاحال خاموش ہے اور صرف ایک مختصر بیان جاری کیا گیا ہے کہ "تفتیش جاری ہے اور فرانزک شواہد کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔”
اس کیس کی پیروی کرنے والے قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ اب ریاست پر لازم ہے کہ وہ میر رضا علی کی حراست کے دوران 12 گھنٹے کے وقفے کی وضاحت کرے۔ اگر تشدد کا یہ دورانیہ ثابت ہو جاتا ہے، تو کیس کا رخ ایک عام گرفتاری سے بدل کر باقاعدہ قتل کے مقدمے کی طرف مڑ جائے گا۔
مقتول کا خاندان اب حتمی طبی رپورٹ کا منتظر ہے، جبکہ جبران ناصر کی ٹیم معاملے کو صوبائی ہائی کورٹ میں لے جانے کی تیاری کر رہی ہے۔ وزارت داخلہ کی جانب سے خاموشی اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ احتساب کی یہ لڑائی طویل اور کٹھن ثابت ہو سکتی ہے۔
