میر رضا علی کی ہلاکت کے کیس میں منگل کے روز اس وقت ایک اہم موڑ آیا جب وہ ٹیکسی ڈرائیور سامنے آ گیا جس نے انہیں ان کی زندگی کے آخری سفر میں اپنی گاڑی میں بٹھایا تھا۔ تفتیشی ادارے کئی ہفتوں سے اس ڈرائیور کی تلاش میں تھے تاکہ اس رات کے واقعات کی کڑیاں ملائی جا سکیں۔
نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بات کرتے ہوئے ڈرائیور نے پولیس کو بتایا کہ میر رضا علی "انتہائی پریشان تھے اور بار بار اپنا فون چیک کر رہے تھے۔” ڈرائیور کے مطابق، علی نے اپنی منزل سے دو بلاک پہلے ہی اترنے پر اصرار کیا، یہ ایک ایسی تفصیل ہے جس نے تفتیشی ٹیم کو واقعے کے ٹائم لائن پر دوبارہ غور کرنے پر مجبور کر دیا ہے۔
پولیس طویل عرصے سے اس علاقے میں سی سی ٹی وی فوٹیج کے خلا کو پُر کرنے کی کوشش کر رہی تھی جہاں علی کو آخری بار دیکھا گیا تھا۔ ڈرائیور کا بیان پہلا ٹھوس عینی شاہد ثبوت ہے جو علی کی موجودگی کو رات سوا دو بجے اس علاقے میں ثابت کرتا ہے، جو کہ پہلے کے اندازوں سے تقریباً ایک گھنٹہ تاخیر کا وقت ہے۔
ڈرائیور نے تفتیش کاروں کو بتایا، "وہ زیادہ بات نہیں کر رہے تھے، لیکن ایسا لگ رہا تھا کہ وہ کسی کا انتظار کر رہے ہیں یا شاید کسی سے بچنے کی کوشش میں ہیں۔ وہ بار بار پیچھے مڑ کر دیکھ رہے تھے۔”
مرکزی ملزمان کی قانونی ٹیم نے پہلے ہی ڈرائیور کی ساکھ کو چیلنج کرنے کا اشارہ دے دیا ہے۔ ان کا موقف ہے کہ اتنے عرصے بعد گواہ کی یادداشت پر انحصار نہیں کیا جا سکتا۔ دوسری جانب، تفتیشی حکام گزشتہ ہفتے حاصل کردہ سیل ٹاور ڈیٹا کے ساتھ ڈرائیور کے بیان کا موازنہ کر رہے ہیں۔
اگر ڈرائیور کی فراہم کردہ ٹائم لائن درست ثابت ہوتی ہے، تو یہ حراست میں موجود مرکزی ملزمان کے فراہم کردہ البائی (Alibi) کے برعکس ہے۔ پولیس کمشنر نے تصدیق کی ہے کہ اب وہ قریبی نجی پارکنگ گیراج سے سی سی ٹی وی کی نئی فوٹیج کا جائزہ لے رہے ہیں، جس سے ڈرائیور کے بیان کردہ گاڑی کے بارے میں مزید شواہد ملنے کی امید ہے۔
میر رضا علی کے اہل خانہ کے لیے یہ تفصیلات اس امید کی کرن ہیں کہ کیس اب قیاس آرائیوں سے نکل کر ٹھوس حقائق کی طرف بڑھ رہا ہے۔ وہ کئی ماہ سے حکام سے شفافیت کا مطالبہ کر رہے تھے اور تحقیقات کی سست روی پر اکثر مایوسی کا شکار رہے۔
ڈرائیور کا بیان عدالتی ریکارڈ کے لیے قلمبند کیا جا رہا ہے۔ آیا یہ بیان کیس میں کلیدی ثبوت ثابت ہوگا یا محض ایک اور کڑی، اس کا فیصلہ پیر کو سماعت کے دوبارہ آغاز پر ہوگا۔
