وزیرِ اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے ایک بار پھر یقین دہانی کرائی ہے کہ سندھ حکومت آتشزدگی سے تباہ ہونے والے گل پلازہ کی دوبارہ تعمیر کا اپنا وعدہ پورا کرے گی۔ حکومت اب ابتدائی اعلانات سے آگے بڑھ کر معاوضے، متاثرہ تاجروں کی بحالی، عمارت کی مسماری اور نئی تعمیر کے عملی مرحلے میں داخل ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔
گل پلازہ سانحے کے بعد مراد علی شاہ نے جنوری 2026 میں اعلان کیا تھا کہ جاں بحق افراد کے خاندانوں کو فی کس ایک کروڑ روپے دیے جائیں گے اور تباہ شدہ پلازہ دوبارہ تعمیر کیا جائے گا۔ سرکاری اور میڈیا رپورٹوں کے مطابق حکومت نے اسی وقت یہ بھی کہا تھا کہ متاثرہ دکانداروں اور خاندانوں کی بحالی کو پیکیج کا حصہ بنایا جائے گا۔
تازہ پیش رفت یہ ہے کہ وزیراعلیٰ کی زیرِ صدارت ہونے والے ایک اعلیٰ سطحی اجلاس میں حکام نے متاثرہ خاندانوں کو معاوضے کی ادائیگی اور تاجروں کی مالی مدد پر پیش رفت سے آگاہ کیا۔ رپورٹوں کے مطابق 72 متاثرہ خاندانوں میں سے 61 کو ادائیگیاں ہو چکی تھیں، جبکہ باقی کیسز پر کارروائی جاری تھی۔ اسی اجلاس میں مراد علی شاہ نے گل پلازہ کو گرا کر ازسرِ نو تعمیر کرنے کی ہدایت بھی دی اور متعلقہ اداروں سے تفصیلی تعمیراتی منصوبہ طلب کیا۔
حکومت کے مجوزہ منصوبے کے مطابق نئی عمارت منظور شدہ ڈیزائن کے تحت تعمیر کی جائے گی اور دکانوں کی تعداد میں اضافہ نہیں کیا جائے گا۔ اس سے پہلے سندھ اسمبلی میں پالیسی بیان دیتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہا تھا کہ گل پلازہ کی تعمیرِ نو دو سال میں مکمل کرنے کا ہدف رکھا گیا ہے، جبکہ متاثرہ تاجروں کے لیے متبادل کاروباری جگہوں اور بلاسود مالی سہولتوں پر بھی کام کیا جا رہا ہے۔
یہ معاملہ صرف ایک تعمیراتی منصوبہ نہیں بلکہ سندھ حکومت کی انتظامی ساکھ کا امتحان بھی بن چکا ہے۔ گل پلازہ میں لگنے والی آگ میں کم از کم 28 افراد جان سے گئے تھے، اور اس سانحے نے کراچی میں فائر سیفٹی، غیر معیاری تعمیرات اور نگرانی کے نظام پر سنجیدہ سوالات اٹھا دیے تھے۔ ایسے میں حکومت کے لیے صرف وعدہ کافی نہیں، بلکہ متاثرین کو ریلیف اور جگہ پر عملی پیش رفت دکھانا بھی ضروری ہے۔
اب تک کے اشارے یہی بتاتے ہیں کہ سندھ حکومت گل پلازہ کے معاملے کو بند فائل نہیں بنانا چاہتی۔ مراد علی شاہ کا تازہ مؤقف یہ ہے کہ تعمیرِ نو، معاوضے اور بحالی — تینوں وعدے پورے کیے جائیں گے۔ البتہ اصل امتحان اب یہی ہے کہ مسماری، منظوریوں اور نئی تعمیر کا عمل کاغذی دعووں سے نکل کر زمین پر کتنی جلدی نظر آتا ہے۔
