مالدیپ کے جزائر تیزی سے سمندر برد ہو رہے ہیں، اور اب اس سنگین صورتحال سے نمٹنے کے لیے حکام نے آرٹیفیشل انٹیلیجنس کا سہارا لینا شروع کر دیا ہے۔ سمندر کی بڑھتی ہوئی سطح ساحلی پٹی کو نگل رہی ہے، جس کے باعث ماہرین نے اب مصنوعی ذہانت کے ذریعے لہروں کے رویے اور ریت کے بہاؤ کی پیشگوئی کا نظام وضع کیا ہے۔
ملک کا 80 فیصد حصہ سطح سمندر سے ایک میٹر سے بھی کم بلندی پر واقع ہے۔ مون سون کے طوفانوں کے دوران ساحل کا کٹاؤ نہ صرف مقامی آبادی کے لیے خطرہ ہے بلکہ اس سیاحتی صنعت کو بھی تباہ کر رہا ہے جس پر مالدیپ کی معیشت کا دارومدار ہے۔
روایتی طریقے، جیسے کنکریٹ کی دیواریں بنانا، اکثر الٹا اثر دکھاتے ہیں۔ یہ دیواریں سمندری لہروں کے قدرتی بہاؤ میں رکاوٹ بنتی ہیں، جس سے ایک جگہ ریت جمع ہوتی ہے تو دوسری جگہ ساحل غائب ہو جاتا ہے۔ اس مسئلے کا حل پیش کرتا ہے۔ کمپیوٹر ماڈلز ہزاروں ممکنہ منظرناموں کا تجزیہ کر کے یہ بتاتے ہیں کہ کسی بھی تعمیراتی ڈھانچے کا سمندری لہروں پر کیا اثر پڑے گا۔
ماحولیاتی ماہرین کا کہنا ہے کہ "اب ہم اندازوں پر کام نہیں کر رہے۔ ماڈلز ہمیں دکھاتے ہیں کہ ایک چھوٹی سی مداخلت کا پورے ساحل پر کیا ردعمل ہوگا۔ اب ہم کسی ایک ریزورٹ کو بچاتے ہوئے پڑوسی ساحل کو نقصان پہنچائے بغیر دفاعی ڈھانچے کھڑے کر سکتے ہیں۔”
یہ ٹیکنالوجی گزشتہ دس سالوں کے سمندری طوفانوں اور لہروں کے ڈیٹا پر مبنی ہے۔ ان نمونوں کو پہچان لیتا ہے جو انسانی آنکھ سے اوجھل رہتے ہیں۔ اس کی مدد سے سمندر میں مصنوعی چٹانوں کو ایسی درست زاویوں پر نصب کیا جاتا ہے کہ وہ لہروں کی شدت کو ساحل تک پہنچنے سے پہلے ہی توڑ دیتی ہیں، جس سے ریت سمندر میں بہنے کے بجائے واپس ساحل پر جم جاتی ہے۔
تاہم، ٹیکنالوجی کی اپنی حدود ہیں۔ یہ مصنوعی دفاعی نظام وقت تو خرید سکتا ہے، لیکن بحر ہند کی بڑھتی ہوئی سطح کو مکمل طور پر روکنا اس کے بس میں نہیں۔ مالدیپ عالمی ماحولیاتی کانفرنسوں میں مسلسل یہ موقف اپنائے ہوئے ہے کہ جب تک دنیا کاربن کے اخراج میں کمی نہیں لاتی، ان جزائر کا طویل مدتی وجود خطرے میں رہے گا۔
فی الحال مالدیپ "سافٹ انجینئرنگ” پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہے۔ کنکریٹ کے بڑے ڈھانچوں کے بجائے سے آپٹمائزڈ چٹانیں نصب کی جا رہی ہیں۔ یہ سمندر کے خلاف ایک ایسی دوڑ ہے جہاں کوڈ کے ذریعے ساحل کو تھامے رکھنے کی کوشش کی جا رہی ہے، جبکہ باقی دنیا ابھی تک ماحولیاتی تبدیلیوں کے اثرات پر بحث میں مصروف ہے۔
