کراچی — وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے گل پلازہ کے متاثرہ تاجروں کو یقین دہانی کرائی ہے کہ حکومت عمارت کی تعمیر نو میں ہر ممکن مدد فراہم کرے گی۔ چند ہفتے قبل لگنے والی ہولناک آگ نے اس اہم تجارتی مرکز کو راکھ کا ڈھیر بنا دیا تھا، جس سے سینکڑوں چھوٹے دکانداروں کا روزگار بری طرح متاثر ہوا۔
وزیراعلیٰ نے منگل کے روز پلازہ کا دورہ کیا اور وہاں موجود متاثرین سے ملاقات کی۔ تباہ شدہ عمارت کے ملبے کے درمیان کھڑے ہو کر مراد علی شاہ نے واضح کیا کہ صوبائی حکومت اس مشکل گھڑی میں تاجر برادری کو تنہا نہیں چھوڑے گی۔
"ہم نقصان کی شدت سے آگاہ ہیں،” مراد علی شاہ نے تاجروں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا۔ "حکومت تعمیر نو کے عمل کو تیز کرے گی تاکہ یہ لوگ جلد از جلد اپنے کاروبار کی جانب لوٹ سکیں۔”
گزشتہ ماہ لگنے والی اس آگ نے 200 سے زائد دکانوں کو خاکستر کر دیا، جس سے اربوں روپے کے مالی نقصان کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔ ابتدائی تحقیقات میں وجہ شارٹ سرکٹ بتائی گئی ہے، تاہم حتمی فرانزک رپورٹ تاحال آنا باقی ہے۔ متاثرہ تاجروں کے لیے یہ پلازہ محض ایک عمارت نہیں، بلکہ ان کی معاش کا واحد ذریعہ تھا، اور گزشتہ چند ہفتے ان کے لیے شدید بے یقینی اور قرضوں کے بوجھ کا باعث بنے ہیں۔
تاہم، تاجروں کو حکومتی اعلانات پر تحفظات ہیں۔ ماضی میں ایسے کئی وعدے ہوئے جو عملی شکل اختیار نہ کر سکے۔ ان خدشات کو دیکھتے ہوئے وزیراعلیٰ نے مقامی انتظامیہ کو ہدایت کی ہے کہ فوری طور پر ملبہ ہٹانے کا کام شروع کیا جائے اور عمارت کی مضبوطی کے حوالے سے تکنیکی رپورٹ جلد مکمل کی جائے۔
وزیراعلیٰ کا وعدہ ایک امید تو ہے، لیکن تعمیر نو کا عمل تکنیکی اور قانونی پیچیدگیوں کا شکار ہے۔ عمارت کی انتظامیہ اور دکانداروں کے درمیان انشورنس کلیمز اور اخراجات اٹھانے کے معاملے پر اختلافات موجود ہیں۔ جب تک کوئی واضح مالیاتی لائحہ عمل یا ڈیڈ لائن سامنے نہیں آتی، یہ اعلان محض ایک زبانی یقین دہانی ہی سمجھی جائے گی۔
صوبائی حکومت کی جانب سے آئندہ کابینہ اجلاس میں بحالی کا باقاعدہ منصوبہ پیش کیے جانے کا امکان ہے۔ گل پلازہ کے تاجروں کے لیے اصل امتحان یہ ہے کہ کب بھاری مشینری جائے وقوعہ پر پہنچتی ہے اور ملبہ اٹھانے کا کام باقاعدگی سے شروع ہوتا ہے۔
