گلگت بلتستان کی سیاست میں پاکستان پیپلز پارٹی نے انتخابی تیاریوں کو تیز کرتے ہوئے پاکستان تحریکِ انصاف کی کمزور ہوتی پوزیشن سے فائدہ اٹھانے کی کوشش شروع کر دی ہے۔ تازہ سیاسی منظرنامہ یہ بتاتا ہے کہ 7 جون 2026 کو ہونے والے گلگت بلتستان اسمبلی انتخابات سے پہلے پی ٹی آئی کی تنظیمی گرفت نمایاں طور پر کمزور ہوئی ہے، جبکہ پیپلز پارٹی اپنی صف بندی مضبوط کر رہی ہے۔
اس تبدیلی کی سب سے بڑی وجہ پی ٹی آئی میں ہونے والی دراڑیں ہیں۔ فروری 2026 میں سابق وزیراعلیٰ حاجی گلبر خان کی قیادت میں 14 بااثر شخصیات نے پی ٹی آئی چھوڑ کر استحکام پاکستان پارٹی میں شمولیت اختیار کی، جسے گلگت بلتستان میں پی ٹی آئی کے لیے ایک بڑا سیاسی نقصان قرار دیا گیا۔ یہ محض چند افراد کی علیحدگی نہیں تھی، بلکہ اس سے یہ تاثر مضبوط ہوا کہ پارٹی کا سابقہ طاقتور ڈھانچہ اب پہلے جیسا نہیں رہا۔
پیپلز پارٹی نے اسی خلا کو سیاسی موقع سمجھا ہے۔ اپریل 2026 میں پارٹی قیادت نے گلگت بلتستان انتخابات کے لیے باقاعدہ پارلیمانی بورڈ قائم کیا، جس کا مقصد امیدواروں کو ٹکٹ دینا اور انتخابی حکمتِ عملی کو منظم کرنا ہے۔ پارٹی کے مطابق بورڈ میرٹ، عوامی خدمت، وفاداری اور انتخابی اہلیت کو مدِنظر رکھ کر فیصلے کرے گا۔
پیپلز پارٹی کی یہ پیش رفت اچانک نہیں ہوئی۔ اس سے پہلے بھی گلگت بلتستان میں پی ٹی آئی اور مسلم لیگ (ن) کے کئی مقامی رہنما پیپلز پارٹی میں شامل ہو چکے تھے۔ جنوری 2025 کی رپورٹنگ کے مطابق سابق اسپیکر فدا محمد ناشاد سمیت متعدد اہم علاقائی شخصیات نے پیپلز پارٹی کا ساتھ اختیار کیا، جس سے پارٹی کی مقامی بنیاد پہلے ہی وسیع ہو چکی تھی۔
انتخابی شیڈول نے بھی اس سیاسی کشمکش کو نئی اہمیت دی ہے۔ گلگت بلتستان اسمبلی کے انتخابات ابتدا میں 24 جنوری 2026 کو ہونا تھے، لیکن شدید موسمی حالات کے باعث انہیں مؤخر کر دیا گیا۔ بعدازاں گلگت بلتستان الیکشن کمیشن نے سرکاری نوٹیفکیشن کے ذریعے 7 جون 2026 کو پولنگ ڈے مقرر کیا۔ اس تاخیر نے سیاسی جماعتوں کو اپنے اتحاد بنانے، ٹکٹوں پر بات چیت کرنے اور ناراض دھڑوں کو ساتھ ملانے کے لیے اضافی وقت دے دیا۔
اسی تناظر میں “پی ٹی آئی کو بڑا دھچکا” والی سرخی کی اصل معنویت واضح ہوتی ہے۔ یہ ایک دن کی خبر نہیں، بلکہ کئی مہینوں میں بننے والی وہ سیاسی صورتِ حال ہے جس میں پی ٹی آئی کے پرانے اتحادی بکھر گئے، کچھ دوسری جماعتوں میں چلے گئے، اور پیپلز پارٹی نے اس انتشار کو اپنی انتخابی مہم کے لیے استعمال کرنا شروع کر دیا۔
اب اصل سوال یہ ہے کہ کیا یہ پیش رفت ووٹوں میں بھی تبدیل ہوگی۔ اس کا جواب 7 جون کے انتخابی نتائج دیں گے۔ لیکن ایک بات ابھی سے واضح ہے: گلگت بلتستان میں پی ٹی آئی کی پوزیشن پہلے جیسی مضبوط نہیں رہی، اور پیپلز پارٹی اس بدلتے ہوئے سیاسی توازن کو اپنے حق میں موڑنے کے لیے پوری طرح میدان میں آ چکی ہے۔
