کراچی — گلستانِ جوہر کے علاقے میں ایک بلند و بالا رہائشی عمارت سے نومولود کو مبینہ طور پر نیچے پھینک دیا گیا، جس کے نتیجے میں بچہ موقع پر ہی دم توڑ گیا۔
منگل کی صبح مقامی افراد نے عمارت کے نیچے نومولود کی لاش دیکھی اور فوری طور پر پولیس کو اطلاع دی۔ ابتدائی تحقیقات کے مطابق بچہ بلندی سے گرنے کے فوری بعد ہلاک ہوا، تاہم پولیس حکام کا کہنا ہے کہ موت کی حتمی وجہ کا تعین پوسٹ مارٹم رپورٹ کے بعد ہی ہو سکے گا۔
واقعے کے بعد علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا۔ پولیس نے عمارت کے اطراف کا علاقہ سیل کر کے شواہد اکٹھے کرنا شروع کر دیے ہیں۔ تفتیشی ٹیمیں بلدیہ کے سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج کا جائزہ لے رہی ہیں تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ علی الصبح عمارت کی اوپری منزلوں پر کون موجود تھا۔ سکیورٹی عملے اور رہائشیوں سے بھی پوچھ گچھ کی جا رہی ہے۔
موقع پر موجود پولیس افسر کا کہنا ہے کہ "ہم اسے قتل کے تناظر میں دیکھ رہے ہیں۔ اس وقت ہماری اولین ترجیح والدین کی شناخت کرنا ہے۔ ہم عمارت میں رہائش پذیر تمام خاندانوں کا ریکارڈ چیک کر رہے ہیں اور ان خواتین کا سراغ لگانے کی کوشش میں ہیں جو حال ہی میں حاملہ تھیں۔”
ابھی تک کوئی گرفتاری عمل میں نہیں آئی ہے۔ نومولود کی لاش کو ضابطے کی کارروائی کے لیے جناح پوسٹ گریجویٹ میڈیکل سینٹر منتقل کر دیا گیا ہے۔
کراچی جیسے گنجان آباد شہر میں نومولود بچوں کو لاوارث چھوڑنے یا ان پر تشدد کے واقعات سماجی دباؤ اور طبی سہولیات تک رسائی نہ ہونے جیسے تلخ حقائق کی عکاسی کرتے ہیں۔ تاہم، ایک بڑی رہائشی عمارت میں اس طرح کے واقعے کا پیش آنا اور چشم دید گواہوں کا نہ ہونا تفتیشی ٹیم کے لیے ایک بڑا چیلنج ہے۔
فی الحال پولیس کی ٹیمیں فارنزک رپورٹ اور پوسٹ مارٹم کے نتائج کا انتظار کر رہی ہیں، جس کے بعد ہی کیس کی مزید سمت کا تعین ہو سکے گا۔
