اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے افریقی ممالک کی جانب سے پیش کردہ اس قرارداد کی منظوری دے دی ہے جس کا مقصد عالمی نقشوں میں جغرافیائی توازن کو بہتر بنانا ہے۔ منگل کی شب ہونے والی اس ووٹنگ کے بعد، اب عالمی ادارے اپنے سرکاری دستاویزات اور ویب سائٹس پر ‘مرکیٹر پروجیکشن’ کے بجائے ایسے نقشے استعمال کریں گے جو زمین کے رقبے کو زیادہ درست انداز میں پیش کرتے ہیں۔
سولہویں صدی میں تیار کردہ مرکیٹر نقشہ طویل عرصے سے عالمی معیار سمجھا جاتا رہا ہے۔ تاہم، ماہرین کا ماننا ہے کہ یہ نقشہ شمالی نصف کرہ کے ممالک کے رقبے کو غیر ضروری طور پر بڑا اور افریقی براعظم کو اس کی اصل جسامت سے بہت چھوٹا دکھاتا ہے۔ ناقدین کے مطابق، یہ صرف ایک نقشہ نہیں بلکہ ایک ‘سیاسی بیانیہ’ ہے جو صدیوں سے عالمی جنوب کی اہمیت کو کم ظاہر کر رہا ہے۔
افریقی یونین کے وفد کی مشیر ڈاکٹر امینہ جالو نے کہا، "نقشے کاغذ پر صرف لکیریں نہیں ہوتے، یہ سیاسی بیانات ہیں۔ ہم اس بصری کہانی کو درست کر رہے ہیں جس نے طویل عرصے سے عالمی جنوب کو نظر انداز کیا۔”
اس قرارداد کے تحت ایک تکنیکی کمیٹی تشکیل دی جائے گی جو نئے ‘مساوی پروجیکشن’ کا انتخاب کرے گی۔ اس کمیٹی کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ آئندہ جنرل اسمبلی کے اجلاس تک ایسے معیاری نقشوں کو حتمی شکل دے جو ‘گیل-پیٹرز’ یا اسی طرح کی دیگر درست پیمائشوں کے مطابق ہوں۔
منصوبے کی منظوری کے باوجود، عالمی سطح پر کچھ تحفظات بھی سامنے آئے ہیں۔ امریکہ اور برطانیہ سمیت کئی مغربی ممالک نے ووٹنگ میں حصہ نہیں لیا۔ ان کا موقف ہے کہ اس تبدیلی سے وابستہ اخراجات اور عالمی انفراسٹرکچر میں نقشوں کی تبدیلی کا بوجھ بہت زیادہ ہوگا۔
ترقی پذیر ممالک کا تاہم یہ ماننا ہے کہ یہ محض جمالیات کا نہیں، بلکہ وقار اور سائنسی درستگی کا معاملہ ہے۔ اقوام متحدہ کا سیکریٹریٹ 2025 کے اوائل سے اس تبدیلی پر کام شروع کرے گا۔ یہ فیصلہ اس بنیادی سوال کو جنم دیتا ہے کہ ہم نے اب تک دنیا کو 1569 کے ایک ایسے نقشے سے کیوں دیکھا جو جدید تقاضوں کے مطابق نہیں تھا؟ اب آنے والا وقت ہی بتائے گا کہ یہ نئی جغرافیائی حقیقت عالمی سیاست پر کیا اثر ڈالتی ہے۔
