نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) نے بجلی کی قیمتوں میں اضافے کی منظوری دے دی ہے۔ یہ اضافہ ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ اور سہ ماہی ٹیرف ایڈجسٹمنٹ کی مد میں کیا گیا ہے، جس کا براہِ راست اثر صارفین کے آئندہ ماہ کے بلوں پر پڑے گا۔
بجلی کے نرخوں میں یہ اضافہ ایسے وقت میں کیا گیا ہے جب ملک پہلے ہی مہنگائی کی بلند ترین سطح سے گزر رہا ہے۔ ایک عام صارف، جو پہلے ہی اپنے ماہانہ بجٹ کو بمشکل متوازن کر پا رہا ہے، اس اضافے کے بعد بجلی کے بلوں کی ادائیگی کے لیے دیگر ضروری اخراجات میں کٹوتی کرنے پر مجبور ہوگا۔
نیپرا حکام کا موقف ہے کہ یہ اضافہ پاور ڈسٹری بیوشن کمپنیوں کے نقصانات کو پورا کرنے کے لیے ناگزیر ہے۔ سرکاری دستاویزات کے مطابق، یہ اضافی بوجھ دراصل درآمدی کوئلے اور گیس کی قیمتوں میں اضافے کے باعث پیدا ہوا ہے، جس سے بجلی کی پیداواری لاگت بڑھ گئی ہے۔
پاور سیکٹر کے ایک اعلیٰ افسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ "ہم صرف وہی لاگت منتقل کر رہے ہیں جو جنریشن پر آ رہی ہے۔ اگر یہ ایڈجسٹمنٹ نہ کی گئی تو پورا پاور سیکٹر دیوالیہ ہونے کے قریب پہنچ جائے گا۔”
دوسری جانب معاشی ماہرین کا ماننا ہے کہ حکومت نے بجلی کے شعبے میں موجود بنیادی خرابیوں کو دور کرنے کے بجائے ہر بار بوجھ عوام پر ڈالنے کا آسان راستہ چنا ہے۔ ٹرانسمیشن لائنوں میں نقصانات اور بجلی چوری جیسے مسائل پر قابو پانے کے بجائے نرخوں میں اضافہ کرنا صارفین کے لیے کسی سزا سے کم نہیں۔
اس اضافے کا اطلاق فوری طور پر ہوگا، جس سے نہ صرف گھریلو صارفین بلکہ صنعتی شعبے کی پیداواری لاگت میں بھی اضافہ متوقع ہے۔ یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب آئی ایم ایف کے ساتھ طے پانے والے شرائط کے تحت حکومت سبسڈی ختم کرنے کی پابند ہے۔
کیا یہ اقدامات پاور سیکٹر کو مالی طور پر مستحکم کر پائیں گے یا پھر بجلی کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ مزید صارفین کو متبادل توانائی کے ذرائع کی طرف دھکیل دے گا؟ اس کا جواب آنے والے مہینوں میں بلوں کی ادائیگی کے رجحانات سے ہی مل سکے گا۔
