جکارتہ، 5 ستمبر 2026: انڈونیشیا میں بڑے پیمانے پر جاری جنگلات اور زمین میں لگنے والی آگ سے اٹھنے والا زہریلا دھواں جنوب مشرقی ایشیا کے مختلف علاقوں تک پھیل گیا ہے، جس کے باعث ملائیشیا، برونائی، سنگاپور اور فلپائن میں فضائی آلودگی میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔
انڈونیشیا میں شدید خشک موسم کے دوران آگ کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے اور ہواؤں کے باعث سماٹرا اور کلیمانتان کے متاثرہ علاقوں سے اٹھنے والا دھواں سرحد پار پڑوسی ممالک تک پہنچ رہا ہے۔
ملائیشیا میں فضائی آلودگی خطرناک سطح پر
ملائیشیا کی ریاست سراواک شدید متاثر ہونے والے علاقوں میں شامل ہے۔ 4 ستمبر کو سیریان ضلع میں فضائی آلودگی کا انڈیکس 519 تک پہنچنے کے بعد حکام نے ہنگامی حالت نافذ کردی۔ ملک میں 500 سے زیادہ کی سطح ہنگامی صورتحال کے لیے مقررہ حد سمجھی جاتی ہے۔
سیریان کے 20 کلومیٹر کے دائرے میں ہنگامی اقدامات کیے گئے ہیں۔ سراواک کے بعض علاقوں میں اسکول بند کردیئے گئے ہیں جبکہ فضائی صورتحال بہتر بنانے کے لیے مصنوعی بارش کی کوششیں بھی شروع کی گئی ہیں۔
سراواک کے دارالحکومت کوچنگ میں بھی فضائی آلودگی خطرناک سطح تک پہنچ چکی ہے، جس کے باعث شہریوں کی صحت اور بیرونی سرگرمیوں کے حوالے سے تشویش بڑھ گئی ہے۔
فلپائن بھی دھوئیں کی لپیٹ میں
انڈونیشیا سے اٹھنے والا دھواں ملائیشیا سے آگے فلپائن تک پہنچ گیا ہے۔ میٹرو منیلا سمیت بعض علاقوں میں ہوا کا معیار خراب ہوگیا ہے اور فضا میں باریک آلودہ ذرات کی مقدار میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔
ایک حالیہ جائزے کے مطابق 30 اگست سے 2 ستمبر کے درمیان میٹرو منیلا میں فضائی آلودگی انتہائی خراب سطح تک پہنچ گئی، جبکہ آلودگی کی مقدار عالمی ادارۂ صحت کی تجویز کردہ حد سے چار گنا سے بھی زیادہ رہی۔
حکام نے شہریوں کو، خاص طور پر بچوں، بزرگوں اور سانس کی بیماریوں میں مبتلا افراد کو، خراب فضائی معیار کے دوران غیر ضروری طور پر باہر نکلنے سے گریز کرنے کی ہدایت کی ہے۔
انڈونیشیا میں آگ کا بحران
بحران کا مرکز خود انڈونیشیا ہے۔ جنگلات سے متعلق اعداد و شمار کے مطابق جنوری سے جون تک ملک بھر میں 202,000 ہیکٹر سے زیادہ رقبہ آگ سے متاثر ہوا، جبکہ صرف جولائی میں تقریباً 95,000 ہیکٹر رقبہ جل گیا۔ اگست کے لیے ابھی مکمل سرکاری اعداد و شمار دستیاب نہیں ہیں۔
مغربی کلیمانتان سب سے زیادہ متاثرہ علاقوں میں شامل ہے، جہاں کئی مقامات پر دھوئیں کے باعث حدِ نگاہ میں نمایاں کمی آئی ہے اور فضائی آلودگی خطرناک سطح تک پہنچ گئی ہے۔
خراب فضائی معیار نے تعلیم کو بھی متاثر کیا ہے۔ انڈونیشیا کے چھ صوبوں میں تقریباً 14 لاکھ طلبہ کو خطرناک فضائی آلودگی کے باعث آن لائن تعلیم کی طرف منتقل کیا گیا۔
ال نینو اور انسانی سرگرمیاں
انڈونیشیا کے محکمہ موسمیات کے مطابق شدید خشک موسم کی ایک بڑی وجہ طاقتور ال نینو ہے، جس نے آگ کے پھیلاؤ کے لیے سازگار حالات پیدا کیے ہیں۔
تاہم حکام اور ماحولیاتی ماہرین کا کہنا ہے کہ صرف موسم کو آگ کا ذمہ دار قرار نہیں دیا جاسکتا۔ زمین صاف کرنے، جنگلات کاٹنے اور زرعی و پام آئل منصوبوں کے لیے آگ لگانے جیسی انسانی سرگرمیاں بھی بحران میں اہم کردار ادا کر رہی ہیں۔
انڈونیشیا میں حکام نے جان بوجھ کر آگ لگانے کے شبہے میں متعدد افراد کو گرفتار کیا ہے جبکہ یہ بھی تحقیقات کی جارہی ہیں کہ آیا کچھ کمپنیوں کا غیر قانونی زمین صاف کرنے میں کردار تھا۔
انسانی صحت اور جنگلی حیات کو خطرہ
دھوئیں نے انڈونیشیا اور پڑوسی ممالک میں صحت عامہ کے حوالے سے شدید خدشات پیدا کردیئے ہیں۔ جنگلات کی آگ سے پیدا ہونے والے باریک ذرات سانس کی نالی میں گہرائی تک پہنچ سکتے ہیں اور پہلے سے موجود سانس اور دل کی بیماریوں کو مزید سنگین بنا سکتے ہیں۔
جنگلی حیات بھی اس بحران سے متاثر ہوئی ہے۔ انڈونیشیا کے جنگلات خطرے سے دوچار اورنگوٹانز کا اہم مسکن ہیں، اور کئی جانوروں کو آگ اور دھوئیں سے متاثر ہونے کے بعد ریسکیو اور طبی امداد فراہم کی جاچکی ہے۔
ماحولیاتی ماہرین کے مطابق پیٹ لینڈز میں لگنے والی آگ خاص طور پر خطرناک ہوتی ہے کیونکہ یہ زمین کے اندر بھی سلگتی رہ سکتی ہے اور بڑی مقدار میں کاربن خارج کرسکتی ہے۔
علاقائی سطح پر اقدامات
انڈونیشیا نے آگ پر قابو پانے کے لیے ہزاروں اہلکار تعینات کیے ہیں جبکہ زمینی کارروائیوں کے ساتھ ساتھ پانی برسانے والے طیاروں اور موسم میں تبدیلی کی کوششوں سے بھی مدد لی جارہی ہے۔
آسیان خطے نے بھی جنوبی جنوب مشرقی ایشیا کے کچھ حصوں کے لیے سرحد پار دھوئیں سے متعلق اپنی بلند ترین سطح کی وارننگ فعال کردی ہے۔
ستمبر میں آگ کے مزید شدت اختیار کرنے کے خدشات کے باعث خطے کے ممالک فضائی معیار کی مسلسل نگرانی کررہے ہیں اور عوام کو آلودہ ہوا سے محفوظ رکھنے کے لیے اضافی اقدامات کیے جارہے ہیں
