نکولس میڈورو خود واشنگٹن کی عدالت میں موجود نہیں ہیں، مگر کاراکاس میں ان کی گرفت کو قانونی دستاویزات کے ذریعے کمزور کیا جا رہا ہے۔ امریکی وفاقی پراسیکیوٹرز نے ان مقدمات میں ایسی پیش رفت کی ہے جس کا مقصد وینزویلا کی قیادت پر مالی دباؤ کو مزید بڑھانا ہے۔ یہ کارروائی ایک ایسے سربراہِ مملکت کے خلاف ہے جن کی حکومت کو امریکہ تسلیم نہیں کرتا۔
عدالت میں جاری اس قانونی جنگ کا مرکزی نقطہ محکمہ انصاف کی جانب سے ان اثاثوں کی ضبطی ہے، جن کے بارے میں حکام کا کہنا ہے کہ یہ منی لانڈرنگ کے ذریعے حاصل کیے گئے۔ پراسیکیوٹرز نے ان پرتعیش جائیدادوں اور آف شور اکاؤنٹس کو نشانہ بنایا ہے جن کے بارے میں استغاثہ کا دعویٰ ہے کہ یہ وینزویلا کی سرکاری آئل کمپنی ‘پی ڈی وی ایس اے’ سے نکالے گئے اربوں ڈالر سے بنائے گئے تھے۔
وائٹ ہاؤس کے لیے یہ عدالتی کارروائی دوہرے مقاصد رکھتی ہے۔ ایک طرف یہ جولائی کے متنازعہ صدارتی انتخابات کے بعد میڈورو حکومت پر دباؤ بڑھانے کا ذریعہ ہے، تو دوسری طرف یہ ان کے قریبی حلقوں کے خفیہ مالیاتی نیٹ ورک کو بے نقاب کرنے کا ایک نقشہ بھی ہے۔
اس کیس سے واقف ایک سابق وفاقی پراسیکیوٹر کا کہنا ہے کہ "عدالت میں پیش کیے جانے والے شواہد صرف بینک اکاؤنٹس ضبط کرنے کے لیے نہیں ہیں۔ یہ ایک ایسی حکومت کی مالی رگوں کو نقشے پر لانے کے مترادف ہے جو عوامی دولت کو ذاتی مفاد کے لیے استعمال کرتی ہے۔ ہر نئی دستاویز کے ساتھ میڈورو کے ساتھیوں کے لیے عالمی مالیاتی نظام میں رقوم کی منتقلی مشکل تر ہوتی جا رہی ہے۔”
ادھر کاراکاس میں حکومتی ترجمانوں نے ان کارروائیوں کو ‘لا-فیئر’ قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا ہے۔ میڈورو کی قانونی ٹیم کا دعویٰ ہے کہ امریکی پابندیاں اور فردِ جرم دراصل سیاسی ڈرامہ بازی ہے، نہ کہ انصاف کا تقاضا۔ تاہم، اس حکمت عملی کے اثرات واضح ہیں۔ امریکی محکمہ خزانہ اور محکمہ انصاف کے درمیان بڑھتی ہوئی ہم آہنگی نے وینزویلا کے حکام کے لیے بین الاقوامی سطح پر لین دین کرنا تقریباً ناممکن بنا دیا ہے۔
ان عدالتی کارروائیوں کا وقت بھی اہم ہے۔ بین الاقوامی مبصرین کی جانب سے انتخابات میں بے قاعدگیوں کی نشاندہی کے بعد، امریکہ یہ پیغام دے رہا ہے کہ سفارتی راستوں پر اس کا صبر ختم ہو رہا ہے۔ عدالت کو میدانِ جنگ بنا کر بائیڈن انتظامیہ روایتی سفارت کاری کے تعطل کو نظر انداز کر کے براہِ راست حکومت کی آخری لائف لائن، یعنی عالمی سرمایہ تک رسائی کو نشانہ بنا رہی ہے۔
کیا یہ عدالتی اقدامات کاراکاس میں اقتدار کی تبدیلی کا سبب بنیں گے؟ یہ سوال پالیسی سازوں کے لیے ایک چیلنج ہے۔ تاریخ بتاتی ہے کہ اس نوعیت کی حکومتیں صرف اثاثوں کی ضبطی سے نہیں گرتیں، لیکن قانونی شکنجہ مسلسل تنگ ہو رہا ہے اور میڈورو کے قریبی ساتھیوں کے لیے یہ جال مزید خطرناک ہوتا جا رہا ہے۔
