اسلام آباد: وفاقی حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کا اعلان کرتے ہوئے پیٹرول کی قیمت میں 4 روپے 93 پیسے فی لیٹر جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل (ایچ ایس ڈی) کی قیمت میں 7 روپے 15 پیسے فی لیٹر اضافہ کر دیا ہے۔ وزارتِ خزانہ کی جانب سے جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق نئی قیمتوں کا اطلاق 22 جولائی سے ہو گیا ہے۔
نئی قیمتوں کے مطابق پیٹرول کی فی لیٹر قیمت 315 روپے 80 پیسے سے بڑھا کر 320 روپے 73 پیسے کر دی گئی ہے، جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت 360 روپے 6 پیسے سے بڑھ کر 367 روپے 21 پیسے فی لیٹر ہو گئی ہے۔
حکومت کے مطابق قیمتوں میں یہ رد و بدل آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) اور متعلقہ وزارتوں کی سفارشات پر کیا گیا ہے۔ اس فیصلے سے قبل عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ اور بین الاقوامی پیٹرولیم مارکیٹ کی صورتحال کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ حکام کا کہنا ہے کہ نئی قیمتیں عالمی سطح پر خام تیل کی قیمتوں اور درآمدی لاگت میں حالیہ اضافے کی عکاسی کرتی ہیں۔
پاکستان میں پیٹرول سب سے زیادہ استعمال ہونے والا ایندھن ہے، جو بالخصوص نجی گاڑیوں، موٹر سائیکلوں اور چھوٹے ٹرانسپورٹ آپریٹرز کی بنیادی ضرورت ہے۔ اس کی قیمت میں معمولی اضافہ بھی لاکھوں صارفین کو براہِ راست متاثر کرتا ہے اور گھریلو و کاروباری سطح پر سفری اخراجات میں اضافہ کرتا ہے۔
دوسری جانب ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں اضافے کے ملکی معیشت پر زیادہ وسیع اثرات مرتب ہونے کا امکان ہے۔ ڈیزل بھاری مال بردار گاڑیوں، بسوں، زرعی مشینری، ٹرکوں اور سامان کی ترسیل کے لیے بنیادی ایندھن کے طور پر استعمال ہوتا ہے۔ اس کی قیمت بڑھنے سے مال برداری کے اخراجات میں اضافہ ہوتا ہے، جس کے نتیجے میں اشیائے ضروریہ، سبزیوں، غذائی اجناس، تعمیراتی سامان اور دیگر روزمرہ استعمال کی اشیا کی قیمتیں بھی بڑھ سکتی ہیں۔
ماہرینِ معاشیات کا کہنا ہے کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں حالیہ اضافہ مہنگائی کے دباؤ میں مزید اضافہ کر سکتا ہے، کیونکہ ایندھن مہنگا ہونے سے نقل و حمل، پیداوار اور ترسیل کے اخراجات بڑھ جاتے ہیں، جن کا بوجھ بالآخر صارفین پر منتقل کیا جاتا ہے۔ یہ اضافہ ایسے وقت میں کیا گیا ہے جب ملک بھر میں متعدد خاندان پہلے ہی بڑھتی ہوئی مہنگائی اور زندگی گزارنے کے اخراجات میں اضافے سے پریشان ہیں۔
کاروباری تنظیموں اور ٹرانسپورٹرز نے بھی قیمتوں میں اضافے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ مہنگا ایندھن کاروباری لاگت میں اضافہ کرے گا اور صنعتوں، تاجروں اور عام مسافروں پر اضافی مالی بوجھ ڈالے گا۔ اگر ٹرانسپورٹرز نے اضافی اخراجات مسافروں پر منتقل کرنے کا فیصلہ کیا تو عوامی ٹرانسپورٹ کے کرایوں میں بھی اضافہ متوقع ہے۔
حکومت بین الاقوامی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں، روپے کی قدر میں اتار چڑھاؤ اور مختلف ٹیکسوں و لیویز کو مدنظر رکھتے ہوئے وقتاً فوقتاً پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا جائزہ لیتی ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ یہ رد و بدل عالمی مارکیٹ کے حالات کے مطابق ضروری ہے تاکہ ملک بھر میں پیٹرولیم مصنوعات کی بلا تعطل فراہمی یقینی بنائی جا سکے۔
توقع ہے کہ نئی قیمتیں آئندہ سرکاری جائزے تک نافذ العمل رہیں گی، تاہم اگر عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں نمایاں تبدیلی آتی ہے تو حکومت دوبارہ قیمتوں پر نظرثانی کر سکتی ہے۔
