وینزویلا کی حکومت اور اپوزیشن کے ایک دھڑے کے درمیان ملک میں آزاد اور شفاف انتخابات کی راہ ہموار کرنے کے لیے امریکہ کی حمایت سے مذاکرات شروع ہونے جا رہے ہیں۔ یہ مذاکرات کئی برسوں سے جاری سیاسی بحران کے حل کی ایک نئی کوشش سمجھے جا رہے ہیں اور توقع ہے کہ ان کا آغاز اگست کے اوائل میں ہوگا۔
حکومت کی نمائندگی جورج روڈریگیز کریں گے، جبکہ اپوزیشن کی جانب سے 2015 کی منتخب قومی اسمبلی کی سربراہ ڈینورا فیگیرا مذاکرات میں شریک ہوں گی۔ اس اسمبلی کو امریکہ اور چند دیگر ممالک اب بھی وینزویلا کی جائز قانون ساز اسمبلی تسلیم کرتے ہیں۔
مذاکرات میں جمہوری اداروں کی بحالی، آزاد اور منصفانہ انتخابات کے لیے سازگار ماحول کی تشکیل، سیاسی اصلاحات اور وینزویلا پر عائد بین الاقوامی پابندیوں کے مستقبل جیسے اہم معاملات پر بات چیت کی جائے گی۔
اپوزیشن کی نمایاں رہنما ماریا کورینا ماچاڈو ان مذاکرات میں شامل نہیں ہوں گی۔ انہوں نے کہا ہے کہ انہیں مذاکرات کے بارے میں نہ تو آگاہ کیا گیا اور نہ ہی شرکت کی دعوت دی گئی۔ تاہم، ان کا کہنا ہے کہ وہ مذاکرات کا فیصلہ اس کے نتائج کی بنیاد پر کریں گی، خاص طور پر اگر اس کے ذریعے حقیقی جمہوری اصلاحات اور آزاد انتخابات کی راہ ہموار ہوتی ہے۔
دوسری جانب وینزویلا کی حکومت کی کوشش ہوگی کہ امریکہ اور دیگر ممالک کی جانب سے عائد معاشی پابندیاں ختم کرائی جائیں، کیونکہ حکومت کا مؤقف ہے کہ ان پابندیوں نے ملکی معیشت کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔ اپوزیشن کا مطالبہ ہے کہ انتخابات سے قبل سیاسی قیدیوں کی رہائی، سیاسی آزادیوں کی ضمانت، آزاد انتخابی اداروں کا قیام اور شفاف انتخابی عمل کو یقینی بنایا جائے۔
امریکہ نے واضح کیا ہے کہ وہ مذاکرات میں سہولت کار کا کردار ادا کر رہا ہے، تاہم وہ کسی بھی فریق پر اپنی شرائط مسلط نہیں کرے گا۔ امریکی حکام کو امید ہے کہ یہ مذاکرات وینزویلا میں پرامن جمہوری عمل کی بحالی اور عوام کی رائے کا احترام یقینی بنانے میں مددگار ثابت ہوں گے۔
ماضی میں حکومت اور اپوزیشن کے درمیان ہونے والے کئی مذاکرات کسی مستقل معاہدے پر منتج نہیں ہو سکے تھے، اس لیے اس نئے دورِ مذاکرات کی کامیابی پر بھی سوالات موجود ہیں۔ اس کے باوجود سیاسی مبصرین کا خیال ہے کہ موجودہ حالات میں یہ مذاکرات وینزویلا کو آزاد انتخابات اور سیاسی استحکام کی جانب لے جانے کا ایک اہم موقع ثابت ہو سکتے ہیں۔
