اسلام آباد – وزیراعظم کے سیاسی و عوامی امور کے مشیر رانا ثناءاللہ نے کہا ہے کہ پاکستان کے موجودہ نظام کو "ہائبرڈ” کہنا غیر مناسب ہے، کیونکہ یہ لفظ منفی تاثر دیتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سیاسی و عسکری قیادت کے درمیان موجود ہم آہنگی کو ظاہر کرنے کے لیے کوئی بہتر اور مثبت لفظ استعمال کیا جانا چاہیے۔
نجی ٹی وی چینل Geo News کے پروگرام "جرگہ” میں گفتگو کرتے ہوئے رانا ثناءاللہ نے کہا:
"اگر ‘ہائبرڈ’ سے مراد یہ ہے کہ سیاسی اور عسکری قیادت معیشت، ترقی اور دفاع کے لیے مل کر کام کر رہے ہیں تو ایسا نظام تو ہونا ہی چاہیے۔ مگر لغت میں ہائبرڈ کا مطلب ‘دو رخا’ ہوتا ہے، جو اس سیاق و سباق میں مناسب نہیں۔”
انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت اور عسکری اداروں کے درمیان مکمل ہم آہنگی اور اعتماد موجود ہے، اور اس ہم آہنگی کی بدولت پاکستان کی معیشت درست سمت پر گامزن ہوئی ہے اور بھارتی جارحیت کا مؤثر جواب دیا گیا، جس سے عالمی سطح پر ملک کی ساکھ میں بہتری آئی ہے۔
رانا ثناءاللہ کا یہ بیان وزیر دفاع خواجہ آصف کے حالیہ بیان کے ردعمل میں آیا ہے، جنہوں نے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ وزیراعظم شہباز شریف کی قیادت میں ملک کا "ہائبرڈ نظام” کامیابی سے چل رہا ہے۔ خواجہ آصف نے کہا تھا کہ یہ نظام سیاسی و عسکری قیادت کے درمیان مفاہمت اور اتفاقِ رائے پر مبنی ہے، جو سیاسی استحکام اور بہتر حکمرانی کو یقینی بناتا ہے۔
خواجہ آصف نے یہ بھی کہا تھا کہ عمران خان کے دور میں یہ ہائبرڈ نظام ناکامی سے دوچار ہوا تھا کیونکہ دونوں فریقین میں اعتماد کا فقدان تھا۔
تاہم، خواجہ آصف کے بیان پر نہ صرف رانا ثناءاللہ نے اعتراض کیا بلکہ وفاقی وزیر ریلوے حنیف عباسی نے بھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اپنی ہی پارٹی پر ‘ہائبرڈ نظام’ کا الزام لگانا غلط ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ تمام فیصلے مسلم لیگ (ن) کی اعلیٰ قیادت ہی کرتی ہے اور موجودہ نظام کو ہائبرڈ کہنا جمہوری حقائق کی توہین ہے۔
آخر میں رانا ثناءاللہ نے کہا:
"یہ تعلق شراکت داری پر مبنی ہے، کنٹرول یا کٹھ پتلی نظام نہیں۔ بہتر ہوگا کہ ہم اس ہم آہنگی کو ظاہر کرنے کے لیے کوئی زیادہ موزوں اور مثبت اصطلاح اپنائیں۔”
