سیول کے ایک ہائی پروفائل ریستوران کے مالک کو قانونی کارروائی کا سامنا ہے، جس کی وجہ ان کے مینو میں شامل ایک ایسا میٹھا (ڈیزرٹ) ہے جس پر زندہ چیونٹیاں سجائی گئی تھیں۔ مقامی محکمہ صحت نے اسے فوڈ سیفٹی قوانین کی سنگین خلاف ورزی قرار دیا ہے۔
یہ تنازع گنگنم ڈسٹرکٹ کے ایک مہنگے ریستوران سے شروع ہوا، جب سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو وائرل ہوئی جس میں آئس کریم کے اوپر زندہ چیونٹیوں کو رینگتے ہوئے دیکھا گیا۔ شیف نے اسے ایک تجرباتی ڈش کے طور پر پیش کیا تھا، لیکن حکومتی حکام کے نزدیک یہ انسانی صحت کے لیے خطرہ ہے۔
جنوبی کوریا کے ‘فوڈ سینیٹیشن ایکٹ’ کے مطابق، کوئی بھی کیڑا تب تک بطور خوراک استعمال نہیں ہو سکتا جب تک اسے حکومت کی منظور شدہ فہرست میں شامل نہ کیا جائے۔ چیونٹیاں اس فہرست کا حصہ نہیں ہیں۔
مقامی ہیلتھ انسپکشن آفس کے ترجمان کا کہنا ہے کہ "معاملہ صرف جدت کا نہیں ہے، بلکہ کمرشل کچن میں زندہ کیڑوں کو استعمال کرنے کے لیے کسی بھی تصدیق شدہ حفاظتی پروٹوکول کا نہ ہونا اصل مسئلہ ہے۔”
عدالت سے سزا ثابت ہونے پر ریستوران کے مالک کو پانچ سال قید یا 5 کروڑ وون (تقریباً 37 ہزار ڈالر) تک جرمانہ ہو سکتا ہے۔ ابتدائی تحقیقات میں انکشاف ہوا کہ چیونٹیاں ایک نجی بریڈر سے خریدی گئی تھیں جن کے پاس انسانی خوراک کے لیے درکار ویٹرنری سرٹیفکیٹ موجود نہیں تھا۔
اس واقعے نے جنوبی کوریا میں ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ کچھ لوگ اسے حکومتی سختی قرار دے رہے ہیں اور دلیل دیتے ہیں کہ دنیا بھر میں کیڑوں سے حاصل کردہ پروٹین کو فروغ دیا جا رہا ہے۔ دوسری جانب ناقدین کا موقف ہے کہ پاکیزگی اور حفظانِ صحت کے اصولوں پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا۔
ریستوران کے مالک نے فی الحال یہ ڈش مینو سے ہٹا دی ہے۔ ان کا دعویٰ ہے کہ چیونٹیاں "صاف اور محفوظ” تھیں، تاہم ان کا ماننا ہے کہ موجودہ قوانین جدید پاک فن کے بدلتے ہوئے رجحانات سے پیچھے ہیں۔
تحقیقات جاری ہیں اور ریستوران بدستور کھلا ہے، لیکن مینو سے تمام تجرباتی اشیاء نکال دی گئی ہیں۔ یہ کیس سیول کے ان تمام ریستورانوں کے لیے ایک تنبیہ ہے جو حد سے زیادہ جدت کی تلاش میں قوانین کو نظر انداز کر دیتے ہیں۔
