مقامی عدالت نے بدھ کے روز علی جعفری پر حملے کے مرکزی ملزم کی عباسی ضمانت منظور کر لی۔ عدالت نے ملزم کو 50 ہزار روپے کے مچلکوں کے عوض رہا کرنے کا حکم دیا اور ہدایت کی کہ وہ تفتیش کے عمل میں پولیس سے مکمل تعاون کرے۔
یہ فیصلہ علی جعفری کی جانب سے گزشتہ ہفتے دائر کی گئی شکایت کے بعد سامنے آیا۔ جعفری نے الزام لگایا تھا کہ انہیں رہائش گاہ کے قریب گھات لگا کر تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ حملے کی مبینہ فوٹیج سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد عوامی حلقوں میں شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے اور انصاف کے لیے مطالبات کیے جا رہے ہیں۔
عدالت میں ملزم کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ مقدمہ سیاسی بنیادوں پر قائم کیا گیا ہے اور اس میں ٹھوس شواہد کا فقدان ہے۔ دوسری جانب استغاثہ کا کہنا ہے کہ میڈیکل رپورٹس اور عینی شاہدین کے بیانات ملزم کے ملوث ہونے کے لیے کافی ہیں۔
کمرہ عدالت کے باہر تفتیشی ٹیم کے ایک رکن نے صحافیوں سے مختصر گفتگو میں کہا کہ "ہم نے عدالت کو شواہد فراہم کر دیے ہیں۔ ضمانت صرف ایک قانونی عمل ہے، اسے بریت نہ سمجھا جائے۔”
اس واقعے نے شہر میں عوامی شخصیات کی سیکیورٹی اور بڑھتے ہوئے تشدد پر نئے سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ مقامی حکومت پر تنقید کرنے والے علی جعفری کا کہنا ہے کہ حملے سے قبل بھی انہیں دھمکیاں مل رہی تھیں، جنہیں قانون نافذ کرنے والے اداروں نے نظر انداز کیا۔
عدالت نے پولیس کو حکم دیا ہے کہ اگلی سماعت تک واقعے کا مکمل چالان پیش کیا جائے۔ تب تک ملزم کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ مدعی سے کسی قسم کا رابطہ نہ رکھے۔
مقدمہ اب ٹرائل کی طرف بڑھے گا یا تکنیکی بنیادوں پر تاخیر کا شکار ہوگا، اس کا انحصار پولیس کی جانب سے پیش کردہ شواہد پر ہے۔ فی الحال، یہ معاملہ عدالتی کارروائی کے ایک طویل اور پیچیدہ مرحلے میں داخل ہو چکا ہے۔
