انٹر بورڈ کمیٹی آف چیئرمین نے ملک بھر کے تعلیمی بورڈز میں امتحانی نتائج کے طریقہ کار میں بڑی تبدیلی کا حتمی فیصلہ کر لیا ہے۔ سندھ، آزاد جموں و کشمیر، وفاقی بورڈ سمیت تمام صوبائی بورڈز اب روایتی نمبروں کے بجائے گریڈنگ سسٹم پر منتقل ہو رہے ہیں۔
اس تبدیلی کا بنیادی مقصد تعلیمی میدان میں ‘نمبروں کی دوڑ’ کو ختم کرنا ہے۔ برسوں سے پاکستانی طلبا صرف ایک یا دو نمبروں کے فرق کی وجہ سے پوزیشن یا داخلے سے محروم رہ جاتے تھے، جس سے ان پر ذہنی دباؤ میں اضافہ ہوتا تھا۔ اب طلبا کو حاصل کردہ نمبروں کے بجائے لیٹر گریڈز (A++, A, B, C) اور گریڈ پوائنٹ ایوریج دیے جائیں گے۔
تعلیمی ماہرین کا ماننا ہے کہ نیا نظام طلبا کو رٹا لگانے کے بجائے تصورات کو سمجھنے کی طرف مائل کرے گا۔ پرانے نظام میں اکثر طلبا کا مقصد صرف زیادہ سے زیادہ نمبر حاصل کرنا ہوتا تھا، جس سے تخلیقی صلاحیتیں دب جاتی تھیں۔ گریڈنگ سسٹم کے ذریعے اب طلبا کی مجموعی کارکردگی کا اندازہ ایک مخصوص بینڈ کے تحت لگایا جائے گا، جس سے انفرادی نمبروں کی غیر ضروری اہمیت کم ہو جائے گی۔
تاہم، اس نظام کے نفاذ کے ساتھ ہی عملی چیلنجز بھی سامنے آ رہے ہیں۔ تمام بورڈز کو اپنے سافٹ ویئر اپ ڈیٹ کرنے اور عملے کو نئے طریقہ کار کے مطابق تربیت دینے کی ضرورت ہے۔ سب سے بڑا سوال یونیورسٹی داخلوں کا ہے، جہاں اب میرٹ کا تعین فیصد کے بجائے جی پی اے کے ذریعے کیا جائے گا۔ یونیورسٹیوں کو اپنے داخلہ پالیسیوں میں فوری ردوبدل کرنا ہوگا تاکہ نئے گریڈنگ سسٹم کے ساتھ ہم آہنگی پیدا کی جا سکے۔
والدین اور طلبا میں اس تبدیلی کو لے کر ملے جلے جذبات پائے جاتے ہیں۔ جہاں بہت سے لوگ اسے تعلیمی نظام کی جدیدیت کی طرف ایک اہم قدم قرار دے رہے ہیں، وہیں کچھ حلقوں کو خدشہ ہے کہ اس سے نتائج کی شفافیت پر اثر پڑ سکتا ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ یہ تبدیلی عالمی تعلیمی معیارات سے ہم آہنگ ہونے کے لیے ناگزیر تھی۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ تعلیمی ادارے اور طلبا اس نئے ماحول میں خود کو کتنی جلدی ڈھال پاتے ہیں۔ یہ فیصلہ پاکستانی تعلیمی تاریخ میں ‘پوزیشن ہولڈر’ کلچر کے خاتمے کی جانب ایک فیصلہ کن موڑ ثابت ہو سکتا ہے۔
