بھارت نے ایشیا کپ ٹی ٹوئنٹی کے اہم میچ میں پاکستان کو یکطرفہ مقابلے کے بعد عبرتناک شکست دے دی۔ پاکستانی بلے باز بھارتی پیس اٹیک کے سامنے ریت کی دیوار ثابت ہوئے اور پوری ٹیم ٹورنامنٹ کی تاریخ میں بھارت کے خلاف اپنے کم ترین اسکور پر ڈھیر ہو گئی۔
میچ کا آغاز ہی بھارت کے حق میں رہا۔ جسپریت بمراہ نے دوسرے اوور میں ہی پاکستانی اوپنرز کو پویلین کی راہ دکھا کر حریف ٹیم پر دباؤ ڈال دیا۔ پچ سے ملنے والی سیم اور باؤنس نے پاکستانی بلے بازوں کے لیے مشکلات کھڑی کیں، جس کا نتیجہ پاور پلے میں چار وکٹوں کے نقصان کی صورت میں نکلا۔ پاکستانی مڈل آرڈر بھی بھارتی اسپن اور پیس کے امتزاج کا توڑ نہ نکال سکا۔
بھارتی کپتان روہت شرما نے میچ کے بعد گفتگو کرتے ہوئے کہا، "ہمیں معلوم تھا کہ درست لائن اور لینتھ پر گیند کرنا ہی کامیابی کی کلید ہے۔ بولرز نے منصوبے پر من و عن عمل کیا اور مخالف ٹیم کو سنبھلنے کا کوئی موقع نہیں دیا۔”
پاکستان کی جانب سے بابر اعظم سمیت کوئی بھی بلے باز بھارتی نظم و ضبط کے سامنے ٹک نہ سکا۔ ہاردک پانڈیا نے دم توڑتے ہوئے پاکستانی ٹیل کو تیزی سے سمیٹا اور کیریئر کی بہترین بولنگ کا مظاہرہ کیا۔ سولہویں اوور میں پوری ٹیم پویلین لوٹ گئی، جس کے بعد بھارت کے لیے ہدف کا تعاقب محض ایک رسمی کارروائی بن گیا۔
اس شکست نے پاکستانی ٹیم کے بیٹنگ آرڈر اور حکمت عملی پر بڑے سوالات اٹھا دیے ہیں۔ مڈل اوورز میں اسٹرائیک روٹیٹ نہ کر پانا اور بھارتی اسپنرز کے سامنے محتاط رویہ اپنانا مہنگا پڑا۔ تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ دباؤ میں آکر وکٹیں گنوانے کا تسلسل پاکستان کی ہار کا بنیادی سبب بنا۔
اس فتح کے ساتھ ہی بھارت ٹورنامنٹ میں فیورٹ کے طور پر ابھرا ہے۔ دوسری جانب پاکستان کو اگلے میچ سے قبل اپنی بیٹنگ لائن اپ اور حکمت عملی میں فوری تبدیلیوں کی ضرورت ہے۔ یہ شکست صرف پوائنٹس ٹیبل پر نہیں بلکہ کھلاڑیوں کے مورال پر بھی گہرا اثر چھوڑے گی، کیونکہ روایتی حریف کے خلاف اتنے بڑے مارجن سے ہارنا کسی بھی ٹیم کے لیے ہضم کرنا آسان نہیں ہوتا۔
