سپریم کورٹ نے اسلام آباد ہائی کورٹ کو ہدایت کی ہے کہ انسانی حقوق کی وکیل ایمان مزاری اور کارکن ہادی علی کی سزا کے خلاف دائر اپیلوں پر دو ہفتوں کے اندر فیصلہ سنایا جائے۔
منگل کے روز چیف جسٹس آف پاکستان قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے سماعت کی۔ عدالت نے واضح کیا کہ ہائی کورٹ کو اس معاملے کو مزید التوا میں ڈالنے کے بجائے میرٹ پر نمٹانا ہوگا۔ عدالتِ عظمیٰ کے اس حکم نے ہائی کورٹ پر قانونی چیلنج کو جلد حل کرنے کے لیے دباؤ بڑھا دیا ہے۔
یہ کیس رواں برس ایک متنازع انسدادِ دہشت گردی کی سزا سے جڑا ہے۔ ایمان مزاری اور ہادی علی کو ایک احتجاج کے دوران سرکاری امور میں مداخلت اور فرائض کی انجام دہی میں رکاوٹ ڈالنے کے الزام میں سزا سنائی گئی تھی۔ ان کے وکلا کا مؤقف ہے کہ ٹرائل کورٹ کی کارروائی میں بنیادی قانونی تقاضوں کو نظر انداز کیا گیا اور انسدادِ دہشت گردی کے قوانین کا غلط استعمال ہوا۔
سماعت کے دوران چیف جسٹس نے اسلام آباد ہائی کورٹ میں زیر التوا اپیلوں کی موجودہ صورتحال پر استفسار کیا۔ کیس کی رفتار پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے بینچ نے دو ہفتوں کی ڈیڈ لائن مقرر کی۔ سپریم کورٹ کا یہ اقدام ظاہر کرتا ہے کہ ملزمان کی سزا کے حوالے سے طویل قانونی غیر یقینی اب مزید برداشت نہیں کی جائے گی۔
درخواست گزاروں کا دعویٰ ہے کہ ان کے خلاف مقدمات سیاسی نوعیت کے تھے جن کا مقصد قانونی معاونت کرنے والوں کو خوفزدہ کرنا تھا۔ دوسری جانب استغاثہ نے عدالتی فیصلے کا دفاع کرتے ہوئے مؤقف اپنایا کہ ٹرائل کے دوران پیش کیے گئے شواہد سزا کے لیے کافی تھے۔
ایمان مزاری اور ہادی علی کے لیے ہائی کورٹ کا فیصلہ انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ ان کے حق میں فیصلہ نہ صرف ان کا ریکارڈ صاف کر سکتا ہے بلکہ عوامی مظاہروں سے متعلق اسی نوعیت کے دیگر مقدمات کے لیے بھی ایک قانونی نظیر بن سکتا ہے۔
اب اسلام آباد ہائی کورٹ پر لازم ہے کہ وہ سماعتوں کو تیز کرے تاکہ سپریم کورٹ کی مقرر کردہ مدت ختم ہونے سے قبل حتمی فیصلہ آ سکے۔ اس وقت تک، سزا کی قانونی حیثیت پر جاری یہ قانونی جنگ مرکزی توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہے۔
