کراچی کو پانی فراہم کرنے والے سب سے بڑے ذریعہ، حبے جی پمپنگ اسٹیشن پر بجلی کی فراہمی معطل ہونے کے بعد شہر کے بیشتر علاقوں میں پانی کا بحران پیدا ہونے کا خدشہ ہے۔ پمپنگ اسٹیشن بند ہونے سے شہر کو پانی کی فراہمی کا سلسلہ فوری طور پر رک گیا ہے۔
حبے جی سے کراچی کو روزانہ کروڑوں گیلن پانی پہنچایا جاتا ہے۔ پمپنگ اسٹیشن میں تکنیکی خرابی اور بجلی کے بریک ڈاؤن کے باعث پانی کی ترسیل کا نظام ٹھپ ہو چکا ہے۔ ماہرین کے مطابق، اگر یہ تعطل چند گھنٹوں سے زیادہ طویل ہوا تو شہر کے وسطی اور جنوبی اضلاع کے نلکوں سے پانی غائب ہو جائے گا۔
کراچی واٹر اینڈ سیوریج کارپوریشن کے حکام نے بجلی کی بندش کی تصدیق کی ہے، تاہم مرمتی کام کی رفتار سست ہے۔ فی الحال حکام کی جانب سے پانی کی بحالی کے حوالے سے کوئی حتمی وقت نہیں دیا گیا، جس سے شہریوں میں تشویش پائی جاتی ہے۔
عام رہائشی علاقوں میں پہلے ہی پانی کی قلت ایک مستقل مسئلہ ہے، اور اس طرح کے بریک ڈاؤن سے صورتحال مزید سنگین ہو جاتی ہے۔ پانی کے ٹینکر مافیا سرگرم ہو چکے ہیں اور خدشہ ہے کہ قلت کے پیش نظر ٹینکرز کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ کیا جائے گا۔
شہر کے بوسیدہ انفراسٹرکچر اور بجلی کی غیر مستحکم فراہمی کے درمیان یہ کوئی پہلا واقعہ نہیں ہے۔ واٹر بورڈ اور کے الیکٹرک کے درمیان گرڈ کی فعالیت اور واجبات کے معاملے پر اکثر تناؤ رہتا ہے، جس کا خمیازہ عام شہریوں کو بھگتنا پڑتا ہے۔
ابھی تک پانی کی بحالی کا کوئی ٹھوس لائحہ عمل سامنے نہیں آیا۔ واٹر بورڈ نے شہریوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ اپنے زیر زمین پانی کے ٹینکوں میں موجود پانی کو احتیاط سے استعمال کریں، کیونکہ سسٹم کو دوبارہ مکمل بحال ہونے میں وقت درکار ہوگا۔
جب تک بجلی کا نظام بحال نہیں ہوتا، کراچی کے شہریوں کے لیے پانی کی بوند بوند کو محفوظ کرنا ہی واحد راستہ ہے۔ شہر کے نلکے کب تک خشک رہیں گے، اس کا جواب تاحال کسی کے پاس نہیں۔
