نیشنل ڈیٹا بیس اینڈ رجسٹریشن اتھارٹی (نادرا) نے گاڑیوں کی خرید و فروخت میں دھوکہ دہی روکنے اور ملکیت کی منتقلی کے عمل کو شفاف بنانے کے لیے ایک نیا ڈیجیٹل تصدیقی نظام متعارف کروا دیا ہے۔ اس اقدام سے خریدار اب گاڑی خریدنے سے قبل اس کی قانونی حیثیت اور پچھلے ریکارڈ کی تصدیق ریئل ٹائم میں کر سکیں گے۔
یہ سسٹم براہِ راست صوبائی ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن محکموں کے ڈیٹا بیس سے منسلک ہے۔ ماضی میں خریداروں کو گاڑی کی رجسٹریشن بک پر انحصار کرنا پڑتا تھا، جو کہ آسانی سے جعلی بن سکتی تھی یا اس میں ہیر پھیر ممکن تھی۔ اب بائیو میٹرک تصدیق یا نادرا کے پورٹل کے ذریعے یہ جاننا ممکن ہو گیا ہے کہ آیا گاڑی فروخت کرنے والے کے نام پر ہے یا اس پر کوئی قانونی تنازعہ تو نہیں چل رہا۔
یہ عام شہری کے لیے ایک اہم تحفظ ہے۔ گاڑیوں کی چوری میں ملوث گروہ برسوں سے "ڈپلیکیٹ” فائلز کے ذریعے چوری شدہ گاڑیاں مارکیٹ میں کھپاتے رہے ہیں۔ اب بائیو میٹرک تصدیق کے لازمی ہونے سے ان غیر قانونی لین دین کی گنجائش محدود ہو جائے گی۔
تاہم، اس سسٹم کی کامیابی کا انحصار صوبائی محکموں کی کارکردگی پر ہے۔ اگر کسی ضلعی دفتر نے اپنا ریکارڈ ڈیجیٹلائز نہیں کیا، تو پورٹل پر معلومات نامکمل ہو سکتی ہیں۔ نادرا حکام کا کہنا ہے کہ یہ سسٹم مرحلہ وار نافذ کیا جا رہا ہے تاکہ تمام صوبوں کے ڈیٹا کو ہم آہنگ کیا جا سکے۔
مارکیٹ تجزیہ کاروں کے مطابق، اس اقدام سے سیکنڈ ہینڈ گاڑیوں کی مارکیٹ میں وقتی طور پر سستی آ سکتی ہے۔ خریدار اب ادائیگی سے قبل تصدیقی سرٹیفکیٹ کا مطالبہ کریں گے، جس سے زبانی کلامی سودوں کا دور ختم ہو جائے گا۔
یہ سہولت نادرا کے ای-سہولت مراکز اور مجاز ڈیلرز کے لیے مخصوص پورٹل پر دستیاب ہے۔ یہ نظام گاڑیوں کی بلیک مارکیٹ کو مکمل طور پر ختم کر پائے گا یا نہیں، اس کا فیصلہ وقت کرے گا، لیکن اب خریداروں کو دھوکے سے بچانے کی ذمہ داری ڈیٹا بیس پر منتقل ہو گئی ہے۔
