مستونگ کے علاقے خد کوچہ میں مسافر بس پر حملے اور ایک اہم پل کو دھماکے سے اڑانے کے بعد مقامی انتظامیہ نے کرفیو نافذ کر دیا ہے۔ یہ مربوط کارروائی بدھ کی رات اس وقت ہوئی جب مسلح افراد نے شاہراہ پر بس کو روکا اور فائرنگ کی، جبکہ تقریباً اسی وقت ایک دھماکے سے قریبی پل کو تباہ کر دیا گیا جس سے کوئٹہ سے رابطے کا مرکزی راستہ منقطع ہو گیا۔
حملے کے فوری بعد سکیورٹی فورسز نے علاقے کا محاصرہ کر لیا۔ حکام کے مطابق، پل کی تباہی کا مقصد امدادی ٹیموں کی آمد کو روکنا اور مجرموں کو فرار ہونے کا راستہ فراہم کرنا تھا۔ علاقے میں تلاشی کا عمل جاری ہے اور سڑکوں پر سناٹا ہے۔
ایک سکیورٹی عہدیدار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ "یہ محض ایک حملہ نہیں، بلکہ سکیورٹی کے نظام کو مفلوج کرنے کی سوچی سمجھی کوشش تھی۔ پل کو نشانہ بنانا اس بات کا ثبوت ہے کہ حملہ آوروں نے اس منصوبے پر گہری منصوبہ بندی کی تھی۔”
واقعے کے بعد فرنٹیئر کور (ایف سی) کی اضافی نفری طلب کر لی گئی ہے۔ پل کے تباہ ہونے سے کوئٹہ اور کراچی کے درمیان سفر کرنے والی ٹریفک کو متبادل طویل راستوں کا استعمال کرنا پڑ رہا ہے، جس سے ہنگامی صورتحال میں مشکلات بڑھ گئی ہیں۔
ابھی تک کسی کالعدم تنظیم نے اس حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی۔ تاہم، جس طرح بس پر حملے کے ساتھ ہی انفراسٹرکچر کو نشانہ بنایا گیا، اس سے ماہرینِ دفاع اسے مقامی عسکریت پسندی میں ایک خطرناک اور منظم تبدیلی قرار دے رہے ہیں۔
مستونگ کی شاہراہ پر ٹریفک کی بحالی کب تک ممکن ہوگی، اس بارے میں انتظامیہ نے تاحال کوئی حتمی وقت نہیں دیا۔ فی الحال توجہ صرف علاقے کو کلیئر کرانے اور مزید کسی بھی ناخوشگوار واقعے کو روکنے پر مرکوز ہے۔
