پاکستان کے محکمہ موسمیات نے آج ایک تازہ ایڈوائزری جاری کی ہے جس میں سندھ بھر میں شدید بارشوں کی پیشگوئی کی گئی ہے۔ حکام نے خبردار کیا ہے کہ اس موسمی صورتحال کے باعث کراچی، حیدرآباد اور میرپورخاص کے نشیبی علاقوں میں اربن فلڈنگ کا خطرہ ہے۔
مون سون کا ایک طاقتور سلسلہ جمعرات سے صوبے میں داخل ہو رہا ہے، جس کے نتیجے میں وقفے وقفے سے موسلا دھار بارشوں کا امکان ہے۔ محکمہ موسمیات کے مطابق یہ سلسلہ اتوار تک جاری رہے گا، جس میں ساحلی پٹی پر بارش کی شدت سب سے زیادہ رہنے کی توقع ہے۔
ایمرجنسی سروسز کو ہائی الرٹ کر دیا گیا ہے۔ کراچی کی میونسپل انتظامیہ پر ایک بار پھر دباؤ ہے کیونکہ شہر کا نکاسی آب کا نظام برسوں سے مون سون کی پہلی بڑی بارش میں ہی ناکام ثابت ہوتا رہا ہے۔ ماضی میں شدید بارشوں کے دوران مرکزی شاہراہیں تالاب بن جانے کے باعث ٹریفک معطل اور بجلی کا نظام گھنٹوں کے لیے درہم برہم ہو چکا ہے۔
چیف میٹرولوجسٹ سردار سرفراز نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اس سسٹم میں نمی کا تناسب بہت زیادہ ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگرچہ بارشیں جاری ہیٹ ویو کو ختم کرنے کے لیے ضروری ہیں، تاہم اس کی شدت شہر کے نکاسی آب کے نظام کو مفلوج کر سکتی ہے۔
نشیبی علاقوں میں رہائش پذیر شہریوں کو اپنے گھروں اور سامان کی حفاظت کے لیے احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی نے ضلعی انتظامیہ کو حکم دیا ہے کہ بارش شروع ہونے سے قبل ہی "ہاٹ سپاٹ” علاقوں میں سکشن پمپ اور بھاری مشینری کی تنصیب یقینی بنائی جائے۔
بارشوں کے ان اثرات کے علاوہ زرعی شعبے میں بھی تشویش پائی جاتی ہے۔ اگرچہ یہ بارشیں صوبے کے اندرونی حصوں میں خشک زمینوں کو سیراب کر سکتی ہیں، لیکن کپاس کے کاشتکار خدشے کا شکار ہیں کہ پانی کا ٹھہراؤ فصلوں کو شدید نقصان پہنچا سکتا ہے۔
محکمہ موسمیات کا موقف واضح ہے: جمعرات کی سہ پہر سے آسمان پر بادل چھا جائیں گے، جبکہ جمعہ کی رات بارش کا سب سے شدید دورانیہ ہو سکتا ہے۔ اگر موجودہ موسمی ماڈلز درست ثابت ہوئے، تو یہ ویک اینڈ صوبے کے لیے اس سیزن کا سب سے زیادہ بارش والا اختتامِ ہفتہ ثابت ہوگا۔
