متحدہ قومی موومنٹ پاکستان (ایم کیو ایم) نے آزاد جموں و کشمیر کے قانون ساز اسمبلی کے انتخابات میں اپنے امیدوار دستبردار کر لیے ہیں۔ اس فیصلے سے اہم انتخابی حلقوں میں پاکستان مسلم لیگ (ن) کی پوزیشن مستحکم ہو گئی ہے۔
یہ پیش رفت دونوں جماعتوں کے درمیان ہونے والی پسِ پردہ بات چیت کا نتیجہ ہے۔ ایم کیو ایم نے ان حلقوں سے اپنے امیدوار ہٹا کر پی ایم ایل این کے لیے راستہ صاف کیا ہے جہاں اس کے ووٹرز کی تعداد فیصلہ کن ثابت ہو سکتی تھی۔ اس حکمت عملی کا مقصد ووٹوں کی تقسیم کو روکنا ہے تاکہ اپوزیشن کو فائدہ نہ پہنچے۔
مسلم لیگ (ن) کے لیے یہ دستبرداری ایک بڑی تزویراتی کامیابی ہے۔ پارٹی طویل عرصے سے آزاد کشمیر اسمبلی میں اپنی عددی برتری کو یقینی بنانے کے لیے کوشاں تھی، اور ایم کیو ایم کے امیدواروں کے ہٹنے سے شہری حلقوں میں ان کی راہ ہموار ہو گئی ہے۔
ایم کیو ایم کے ایک سینئر رہنما نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ "ہم خطے میں سیاسی استحکام اور اپنے اتحادیوں کی حمایت پر یقین رکھتے ہیں۔” انہوں نے اس بات کی تصدیق نہیں کی کہ آیا اس معاہدے میں عام انتخابات کے لیے کراچی میں بھی کوئی انتخابی ایڈجسٹمنٹ شامل ہے یا نہیں، تاہم سیاسی مبصرین اسے آئندہ انتخابات سے قبل ایک بڑے ‘گیو اینڈ ٹیک’ کا حصہ قرار دے رہے ہیں۔
دوسری جانب اپوزیشن نے اس اتحاد کو محض ‘سیٹ ایڈجسٹمنٹ کا کھیل’ قرار دے کر مسترد کر دیا ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ یہ اقدام اس بات کا ثبوت ہے کہ علاقائی سیاست میں نظریاتی پلیٹ فارمز کو اکثر پارلیمانی ہندسوں کی نذر کر دیا جاتا ہے، جس سے کشمیری عوام کے حقیقی مسائل پسِ پشت چلے جاتے ہیں۔
امیدواروں کی دستبرداری کے باوجود انتخابی میدان اب بھی غیر یقینی صورتحال کا شکار ہے۔ کئی اضلاع میں آزاد امیدواروں اور مقامی دھڑوں کا اثر و رسوخ برقرار ہے، جو کسی بھی وقت انتخابی نتائج کو متاثر کر سکتے ہیں۔
انتخابات کے قریب آتے ہی اب نظریں اس بات پر مرکوز ہیں کہ آیا ایم کیو ایم کا ووٹر بینک پارٹی قیادت کے فیصلے پر عمل کرتے ہوئے مسلم لیگ (ن) کو ووٹ دیتا ہے یا نہیں۔ اصل امتحان اس اتحاد کا نہیں، بلکہ اس بات کا ہے کہ یہ سیاسی جوڑ توڑ بیلٹ باکس پر کتنی مؤثر ثابت ہوتی ہے۔
