وفاقی حکومت نے عید الاضحیٰ 2026 کے پیشِ نظر تمام وفاقی ملازمین اور پنشنرز کو تنخواہیں اور پنشن بروقت ادا کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس اقدام کا مقصد عید کے اخراجات اور قربانی کی ادائیگی کے لیے سرکاری ملازمین کے مالی مسائل کو کم کرنا ہے۔
وزارتِ خزانہ کی جانب سے اکاؤنٹنٹ جنرل پاکستان ریونیوز (AGPR) کو ہدایات جاری کی جا رہی ہیں کہ وہ مئی کے تیسرے ہفتے تک ادائیگیوں کا عمل مکمل کرے۔ سرکاری قواعد کے مطابق، جب کوئی بڑا مذہبی تہوار مہینے کے آخر میں آئے تو حکومت تنخواہوں کی ادائیگی قبل از وقت کرنے کی مجاز ہے۔ عید کا چاند 27 یا 28 مئی کے قریب متوقع ہے، لہذا حکومت کی کوشش ہے کہ عید سے کم از کم پانچ دن قبل فنڈز ملازمین کے بینک اکاؤنٹس میں منتقل ہو جائیں۔
یہ فیصلہ صرف ایک انتظامی ضرورت نہیں، بلکہ معاشی مجبوری بھی ہے۔ گزشتہ دو برسوں کے دوران قربانی کے جانوروں کی قیمتوں میں ہوشربا اضافے کے بعد، سرکاری ملازمین کے لیے مئی کی تنخواہ ہی اس تہوار کا واحد سہارا ہے۔ اس پیشگی ادائیگی کے بغیر، ایک بڑی تعداد کے لیے منڈیوں میں خریداری ممکن نہیں رہتی۔
یہ احکامات تمام وفاقی وزارتوں، ڈویژنوں اور منسلک محکموں پر لاگو ہوں گے۔ اگرچہ نوٹیفکیشن وفاقی عملے کے لیے ہے، لیکن پنجاب، سندھ، خیبر پختونخوا اور بلوچستان کی صوبائی حکومتیں بھی روایتی طور پر وفاقی اعلان کے 48 گھنٹوں کے اندر اپنے ملازمین کے لیے اسی طرح کے اقدامات کا اعلان کرتی ہیں۔
بینکوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ چھٹیوں کے دوران اپنے اے ٹی ایم نیٹ ورکس کو فعال رکھیں۔ عید کی خریداری کے عروج پر اے ٹی ایم کا بند ہونا یا نقد رقم کی قلت عوام کے لیے شدید پریشانی کا باعث بنتی ہے، جسے حکومت اس بار روکنا چاہتی ہے۔
یہ بات ذہن نشین رہے کہ یہ کوئی بونس یا اضافی رقم نہیں، بلکہ تنخواہ کی پیشگی ادائیگی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جون کے آخر میں آنے والی اگلی تنخواہ کا وقفہ معمول سے زیادہ طویل ہوگا۔ تاہم، فی الحال حکومت کی ترجیح ملک کے تقریباً 15 لاکھ وفاقی ملازمین کو عید کے موقع پر مالی دباؤ سے نکالنا ہے۔
