راولپنڈی — ٹک ٹاکر شمشو بی بی کے قتل کی سی سی ٹی وی فوٹیج سامنے آ گئی ہے، جس میں واقعے کے آخری لمحات دیکھے جا سکتے ہیں۔ سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی اس ویڈیو میں مقتولہ کو راولپنڈی کے ایک رہائشی علاقے میں چلتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے، جس کے فوراً بعد ایک نامعلوم حملہ آور نے ان پر گولیاں چلا دیں۔
فوٹیج سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ یہ ایک ٹارگٹ کلنگ تھی۔ ہیلمٹ پہنے حملہ آور نے شناخت چھپانے کے لیے اپنا چہرہ ڈھانپ رکھا تھا اور فائرنگ کے فوراً بعد موٹر سائیکل پر فرار ہو گیا۔ پولیس اب اس کلپ کی مدد سے ملزم کے فرار ہونے کے راستے کا سراغ لگا رہی ہے۔
شمشو بی بی، جو ٹک ٹاک پر لائف اسٹائل ویڈیوز کے لیے جانی جاتی تھیں، حال ہی میں اس شہر منتقل ہوئی تھیں۔ لواحقین نے نامعلوم افراد کے خلاف مقدمہ درج کروا دیا ہے، تاہم ان کا اشارہ ایک پرانی ذاتی دشمنی کی جانب ہے۔
مقتولہ کے ایک قریبی رشتہ دار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ "ہم نے پولیس کو نام فراہم کر دیے ہیں، لیکن تفتیش کی رفتار انتہائی سست ہے۔”
راولپنڈی پولیس کے لیے اب اصل چیلنج حملہ آور کی شناخت کرنا اور یہ تعین کرنا ہے کہ آیا یہ قتل کسی ذاتی رنجش کا نتیجہ تھا یا اس کے پیچھے کوئی اور محرکات کارفرما ہیں۔ ایس ایس پی (آپریشنز) کے مطابق فرانزک ٹیمیں فوٹیج کو بہتر بنا رہی ہیں تاکہ موٹر سائیکل کی نمبر پلیٹ کا پتہ لگایا جا سکے۔
اس واقعے نے پاکستان میں سوشل میڈیا انفلوئنسرز کی سیکیورٹی پر نئے سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ مقتولہ کی آن لائن موجودگی نے انہیں ایک عوامی شخصیت تو بنایا، لیکن اسی شہرت نے انہیں غیر محفوظ بھی کر دیا۔
جمعرات کی شام تک اس کیس میں کوئی گرفتاری عمل میں نہیں آ سکی تھی۔ پولیس نے اس علاقے کو گھیرے میں لے رکھا ہے جہاں فوٹیج ریکارڈ ہوئی، تاکہ قریبی دکانوں کے کیمروں سے مزید شواہد اکٹھے کیے جا سکیں۔
فی الحال تفتیش چند سیکنڈز کی دھندلی فوٹیج پر منحصر ہے — اور ایک ایسا خاندان جو انصاف کے منتظر ہے۔
