مظفرآباد — آزاد جموں و کشمیر پولیس نے جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی پر سنگین الزامات عائد کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ یہ تحریک خطے میں بدامنی پھیلانے کے لیے کسی "خفیہ ایجنڈے” کے تحت کام کر رہی ہے۔
یہ الزامات گزشتہ اختتامِ ہفتہ ریاست بھر میں کیے گئے کریک ڈاؤن کے بعد سامنے آئے۔ پولیس حکام نے کئی اہم کارکنوں کی گرفتاری کی تصدیق کی ہے اور دعویٰ کیا ہے کہ زیر حراست افراد کے قبضے سے جدید خودکار ہتھیار اور گولہ بارود برآمد ہوا ہے۔
پولیس کے ایک اعلیٰ عہدیدار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ "یہ محض مظاہرین نہیں ہیں۔ ہم نے ایسی ہارڈویئر برآمد کی ہے جس کا کسی پرامن احتجاج سے کوئی تعلق نہیں بنتا۔ یہ ہتھیاروں کی موجودگی اس بات کا ثبوت ہے کہ حقوق کے مطالبے کی آڑ میں تشدد کو ہوا دینے کی منظم کوشش کی جا رہی ہے۔”
دوسری جانب، جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی نے ان الزامات کو یکسر مسترد کر دیا ہے۔ کمیٹی کے رہنماؤں کا مؤقف ہے کہ ریاستی ادارے ان کے جائز مطالبات کو دبانے کے لیے من گھڑت الزامات کا سہارا لے رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ برآمد شدہ ہتھیاروں کا ڈرامہ محض تحریک کو بدنام کرنے اور عوامی حمایت کو توڑنے کی ایک بھونڈی کوشش ہے۔
یہ پیش رفت انتظامیہ اور عوامی ایکشن کمیٹی کے درمیان جاری کشیدگی میں ایک خطرناک موڑ ہے۔ گزشتہ کئی ہفتوں سے بجلی کے نرخوں اور آٹے پر سبسڈی کے معاملے پر خطے میں شٹر ڈاؤن ہڑتالیں اور پہیہ جام مظاہرے جاری ہیں، جس سے معمولاتِ زندگی بری طرح متاثر ہوئے ہیں۔ حکومت کی جانب سے احتجاجی قیادت کو ‘عسکریت پسند’ ثابت کرنے کی کوشش یہ ظاہر کرتی ہے کہ اب مذاکرات کے بجائے طاقت کے استعمال کو ترجیح دی جا رہی ہے۔
ماہرینِ سیاسیات کا کہنا ہے کہ حکومت کا یہ بیانیہ دو دھاری تلوار ثابت ہو سکتا ہے۔ ایک طرف انتظامیہ اسے امن و امان کی بحالی کے لیے ضروری اقدام قرار دے رہی ہے، تو دوسری طرف مقامی مبصرین خبردار کر رہے ہیں کہ عوامی قیادت کو ‘سیکیورٹی رسک’ قرار دینے سے عوامی غصہ کم ہونے کے بجائے مزید بھڑک سکتا ہے۔
گرفتاریوں کی تصدیق کے بعد انتظامیہ نے ممکنہ احتجاجی لہر سے نمٹنے کے لیے سیکیورٹی ہائی الرٹ کر دی ہے۔ آنے والے چند دن یہ فیصلہ کریں گے کہ حکومت کا یہ سخت گیر مؤقف تحریک کو دبانے میں کامیاب ہوتا ہے یا پھر سڑکوں پر موجود عوام کی مزاحمت کو ایک نئی اور زیادہ توانا شکل دیتا ہے۔
