نادرا نے اپنی پاک آئی ڈی موبائل ایپلیکیشن کو جدید خطوط پر استوار کرتے ہوئے نئے فیچرز متعارف کروا دیے ہیں۔ اس اپ ڈیٹ کا بنیادی مقصد شہریوں کو دفاتر کے چکر لگانے سے نجات دلانا اور شناختی دستاویزات کے حصول کے عمل کو مکمل طور پر ڈیجیٹل بنانا ہے۔
نئی اپ ڈیٹ کے بعد اب شہری اپنے اسمارٹ فون کیمرے کے ذریعے بائیو میٹرک تصدیق براہِ راست ایپ کے اندر ہی کر سکیں گے۔ اس سے قبل، بائیو میٹرک کے لیے شہریوں کو نادرا سینٹرز یا مخصوص بائیو میٹرک مشینوں تک جانا پڑتا تھا، جس سے دفاتر میں غیر ضروری رش پیدا ہوتا تھا۔
ایپ میں اب انٹیگریٹڈ پیمنٹ گیٹ وے بھی شامل کر دیا گیا ہے۔ اب صارف کو فیس جمع کروانے کے لیے بینک جانے کی ضرورت نہیں؛ وہ اپنے کریڈٹ یا ڈیبٹ کارڈ کے ذریعے گھر بیٹھے چالان کی ادائیگی کر سکتے ہیں۔ نادرا حکام کا دعویٰ ہے کہ ان اقدامات سے درخواست پر کارروائی کے وقت میں 40 فیصد تک کمی آئے گی۔
ایک اعلیٰ افسر نے منگل کے روز میڈیا کو بتایا کہ "ہمارا ہدف شناختی عمل کو مکمل طور پر شہری کی جیب تک پہنچانا ہے۔” انہوں نے نئی ‘لائیونس ڈیٹیکشن’ ٹیکنالوجی کا ذکر کیا، جو مصنوعی ذہانت کے ذریعے صارف کی شناخت کی تصدیق کرتی ہے تاکہ کسی بھی قسم کے فراڈ یا جعلی درخواستوں کو روکا جا سکے۔
تاہم، یہ سہولت ابھی بھی تمام اسمارٹ فونز پر یکساں کام نہیں کر رہی۔ کم معیار کے کیمرے والے فونز یا پرانے ماڈلز پر بائیو میٹرک تصدیق کے دوران تکنیکی مسائل کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ ٹیکنالوجی کی یہ پیش رفت خوش آئند ہے، مگر دیہی علاقوں میں انٹرنیٹ کی عدم دستیابی اور اسمارٹ فونز کی کمی اب بھی ان سہولیات کی راہ میں بڑی رکاوٹ ہے۔
حکومت اس وقت ‘ڈیجیٹل پاکستان’ فریم ورک کے تحت تمام سرکاری خدمات کو آن لائن منتقل کرنے کے لیے کوشاں ہے۔ گزشتہ سال نادرا نے 1 کروڑ 50 لاکھ سے زائد درخواستیں پروسیس کیں، اور حکام کو توقع ہے کہ ان نئے فیچرز کے بعد رواں مالی سال کے اختتام تک 30 فیصد سے زائد درخواستیں ریموٹلی (گھر بیٹھے) جمع کرائی جائیں گی۔
فی الحال یہ ایپ شناختی کارڈ کی تجدید اور کوائف میں تبدیلی کے لیے کارآمد ہے، جبکہ پاسپورٹ سروسز کو اگلے مرحلے میں شامل کیا جائے گا۔ صارفین کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ نئی اپ ڈیٹ حاصل کرنے کے لیے پلے اسٹور یا ایپ اسٹور سے اپنی ایپلیکیشن اپ ڈیٹ کریں۔
کیا یہ ڈیجیٹل تبدیلی نادرا دفاتر کے باہر لگنے والی لمبی قطاروں کو واقعی ختم کر پائے گی؟ اس کا حتمی فیصلہ تو آنے والے مہینوں میں ہی ہوگا۔ فی الحال، یہ سہولت ان لوگوں کے لیے تو بڑی راحت ہے جن کے پاس جدید اسمارٹ فون اور تیز انٹرنیٹ موجود ہے، لیکن دور دراز کے علاقوں میں رہنے والوں کے لیے دفتر کا انتظار اب بھی ایک حقیقت ہے۔
